اسرائیل کی جانب سے جینن اور رام اللہ میں حملے جاری ہیں جس میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 10 ہوگئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر کیے جانے والے اس حملے کو گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے اسرائیل کے بڑھتے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والوں کو بھی ان تک رسائی سے روکاجارہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ایک ہزار کے قریب اسرائیلی فوجیوں کی معاونت سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے جنین میں مسلسل حملے، شہید فلسطینیوں کی تعداد 8 ہوگئی
اس موقع پر فلسطینی ریڈ کراس کا کہنا ہےکہ آدھے اسکوائر کلو میٹر کے علاقے میں 14 ہزار افراد آباد تھے جہاں پناہ گزین کے کیمپ سے 3 ہزار افراد کو نکالا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کو نشانہ نہیں بنارہی بلکہ فورسز کا ہدف ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کے وہ ارکان ہیں جو جینن میں سرگرم ہیں۔
فلسطینی وزیراعظم نے اسرائیل کی تازہ ترین کارروائی کو کیمپ کو تباہ کرنے اور وہاں کے لوگوں کو بے گھر کرنے کی ایک نئی کوشش قرار دیا ہے۔
جینن کے رہائشیوں کا کہنا ہےکہ اسرائیلی جرائم پیشہ ہیں،اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہر کو چھوڑنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں فوجی گاڑیاں اور بلڈوزر موجود ہیں۔
فوجی آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے: اسرائیل
اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا فوجی آپریشن کئی روز تک جاری رہ سکتا ہے، ہماری قیادت میں اتفاق رائے تھا کہ یہ ایک انتہائی ضروری آپریشن ہے، یہ ایک بدلتی ہوئی صورتحال ہے جو کئی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ایک سینئر افسر نے کہاکہ اسرائیلی فوج کا جنین کیمپ پر قبضہ کرنے یا اس علاقے میں طویل عرصے تک رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اسرائیلی فورسز اس وقت جینن کیمپ کے اندر ہیں اور شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کیلئے ’خصوصی جنگی تکنیک‘ کا استعمال کرتے ہوئے درست انٹیلی جنس کی بنیاد پر چھاپے مار رہی ہیں۔
اسرائیلی فورسز کے جینن پر حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 10 ہوگئی








