اسلام آباد: روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد ملک پر 1250 ارب روپے سے زائد کے غیر ملکی قرضوں کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ادھر ڈالر کے علاوہ اوپن مارکیٹ میں یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قدر میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
ریال کی قیمت میں 3.70 روپے کی کمی ہوئی اور ریال 71.70 روپے کا ہوگیا۔ درہم کی قیمت میں 6.30 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد درہم 72.70 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
اسی طرح پاؤنڈ کی قیمت میں 13 روپے کی کمی سے 355 روپے پر ٹریڈنگ جاری ہے۔ یورو کی قیمت میں 8 روپے کی کمی ہوئی، اور یہ 305 پر فروخت ہو رہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فاریکس ایکسچینج ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما ملک بوستان نے کہا ہے کہ آج انٹر بینک میں روپے کی قدر میں 10 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے،روپے کی قدر میں اضافے نے ریکارڈ قائم کیا ہے، جو لوگ سوچ رہے تھے پاکستان ڈیفالٹ کرے گا، انہیں مایوسی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف نےسٹے بازوں کو کلین بولڈ کیا ہے، آنے والے وقت میں روپےکی قدر مزید بہتر ہوگی۔ عالمی مالیاتی ادارے سے پیسے موصول ہونے کے بعد روپے کی قیمت 245 سے نیچے آ جائیگی۔
دوسری طرف طفر ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ظفر پراچہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد معیشت پر اچھا اثر آیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، اب امید ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری بھی آئے گی، سٹاک بھی بہتر ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہ بات دیکھنے والی ہے کہ ہم ریٹ کو کس حد تک کنٹرول کرسکتے ہیں، ڈالر کا نیچے آنا اور پھر اپنی جگہ قائم نہ رہنے سے لوگوں میں مایوسی پھیلتی ہے اور منفی اثرات آتے ہیں، پہلے کی طرح ایسا نہ ہو کہ ریٹ کم ہو اور پھر اوپر چلا جائے۔ اگر ہم مجموعی طور پر چیزوں کو لے کر چلیں تب تو بات بن سکتی ہے نہیں تو پاکستان کی معیشت پر طویل مدت میں مشکلات رہیں گی کیونکہ ہم نے 3 سال میں تقریباً 50 سے 55 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔









