راولاکوٹ(آصف اشرف)بھارتی فوج کی طرف سےعید ملن پارٹی پر چھاپہ مار کر گرفتار کیے گئےجے کے ایل ایف سمیت دیگر تنظیموں کے تین درجن سے زاہد لیڈران و کارکنان پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذکردیاگیا، سری نگر کےکوٹھی باغ تھانہ سٹیشن میں مقامی ہوٹل میں پابند سلاسل جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے صف اول کے لیڈروں سلیم ننھا جی یاسین بٹ وجائت قریشی حریت کانفرنس کے شبیر ڈار فردس شاہ عمر حیات پروفیسر ممدعلی جہانگیر بٹ عبدالرحمان شمس خورشید بٹ سکیل میر فردوس حسن پرے ہلال وار سجاد گل جہانگیر غنی بھٹ مظفر رضوی سمیت پنتالیس لوگوں کو گرفتار کر کے کوٹھی باغ تھانہ سری نگر پابند سلاسل کر نے کے بعد ان پر پی ایس اے لاگو کر دیا گیا ان کے ساتھ گرفتار شدگان میں حریت کانفرنس کے سابق چئیرمین مولوی عباس انصاری کے بیٹے مسرور عباس انصاری بھی حراست میں ہیں یہ گرفتاریاں بھارتی سپریم کورٹ میں دائر اس پیٹیشن کی سماعت سے ایک روز قبل کی گئیں جس پیٹیشن میں مودی سرکار کی طرف سے دفعہ 370کے خاتمہ اور 35,اے کا خاتمہ چیلنج کیے گئے ہیں اور اس رٹ پر چار سال بعد گیارہ جولائی منگل سے سماعت شروع ہوئی بھارتی حکام کا الزام ہے کہ عید ملن کے نام پر یہ علحیدگی پسند سیاسی محاز پر بھارت مخالف سیاسی اتحاد منظم کر رہے تھے۔
مقبوضہ کشمیر، جے کے ایل ایف سمیت دیگر تنظیموں کے گرفتار لیڈران و کارکنان پر پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ








