اسلام آباد(ممتاز رپورٹ) پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا الزام لگانے والے سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے چند ماہ قبل امریکہ میں اس وقت کے سفیر اسدمجید کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاتھا کہ ان کی سربراہی میں سفارت خانہ ایسی فضاقائم کرنے میں ناکام رہا جس سے وزیراعظم پاکستان کے دفتر اور امریکی صدر کے درمیان سفارتی رابطوں کو قائم کیا جاسکے۔یہ انکشاف 27ستمبر2021کووزیر خارجہ شاہ محمود کی طر ف سے اسدمجیدکو لکھے گئے ایک خط میں ہوا۔اپنے خط میں شاہ محمود نے سفیر اسد مجید سے کہاکہ افغانستان کی صورت حال اور پاکستان کی طرف سے ادا کئے گئے انتہائی اہم کردار کے باوجود یہ افسوسناک امرہے کہ وائٹ ہاؤس پاکستان کی قیادت سے لاتعلق رہا۔خط میں کہاگیا کہ وزیراعظم آفس نےبھی سفارتخانے کی کارکردگیکا سخت نوٹس لیا کہ پاکستان کی طرف سے وائٹ ہاؤس کے ساتھ مؤثر رابطے قائم کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود امریکہ کی طرف سے کوئی بامقصد ردعمل سامنے نہیں آرہا۔خط میں کہاگیاکہ یہ صورتحال سفارتی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ امریکی صدر بائیڈن کے مشیروں تک اپنا موقف بہترطور پر نہیں پہنچا سکا۔خط میں اس وقت کے سفیر کو ہدایت کی گئی کہ تمام سفارتی فورمز پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئےمناسب اقدامات کئے جائیں۔واضح رہے کہ اس خط لکھے جانے کے بعد اسد مجیدکی طرف سے وزارت خارجہ کومراسلہ ارسال کیا گیاتھا جس میں امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کی پاکستان کو دھمکیوں ،عمران خان کی حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے کا ذکر موجود ہے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس مراسلے کے بعد اپوزیشن نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی ۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو امریکی سازش کے تحت ہی عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور اسدمجید کی طرف سے بجھوایا گیا مراسلہ امریکی مدخلت کا واضح ثبوت ہے،اس دھمکی آمیز مراسلے کے بعد اس مجید تحریک انصاف کی قیادت کے منظور نظر بن گئے اور پارٹی کا پورا بیانیہ ان کے اس مراسلے پر مبنی ہے،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد بھی تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق اسد مجیداپنے موقف پر ڈٹے رہے جس پر پی ٹی آئی کی طر ف سے انہیں سراہا بھی جارہا ہے۔










