بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہمیں جی ایچ کیو کے قریب ہونے کے طعنے ملتے ہیں ،فخر ہے پاک فوج کے ساتھ ہیں ،سائرہ بانو

اسلام آباد(انٹرویو :طارق محمود سمیر )جی ڈی اے اور مسلم لیگ فنکشنل کی مرکزی رہنما رکن قومی اسمبلی سائرہ بانو نے کہا
ہے کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں یہ اپنی فوج ہے کوئی بھارتی فوج نہیں ہے ،ملک بھی اپنا ہے فوج بھی اپنی ہے ،انہوں نے کہا کہ بڑے پیر صاحب کہتے ہوتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں تو ہر پاکستانی کی ملکی سالمیت کے اداروں کے حوالے سے یہی سوچ ہونی چاہیے،فخر کی بات ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ہیں اس میں باعث شرمند گی والی کوئی بات نہیں۔80وزراء کی کابینہ ہے اور ملک ان سے پھر بھی نہیں چل رہا کہیں ایسا نہ ہوں کہ کل ہمارے بارے میں بھی یہ لوگ او ایل ایکس پر اشتہار لگا دیں،عوام کو ریلیف دیں میں غریبوں کے حق میں بات کرتی رہوں گی ،عمران خان کو بعض لوگوں نے ایسے راستے پرڈال دیا تھا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے اور اصلاحات کے ایجنڈ ے سے ہٹ گئے تھے ،نوازشریف کی بنائی ہوئی موٹر وے پر سفر کرنا اچھا لگتاہے وہ 50روپے کا اسٹامپ پیپر دے کر چار ہفتوں کے لیے گئے تھے اور اب تک واپس نہیں آئے ۔روزنامہ ممتاز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں سائرہ بانو نے کہا ہے میں سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں میرے سسرال کے تمام رشتہ دار مسلم لیگ فنکشنل میں ہمیشہ رہے ہیں اور حرو ں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا کے ہم مرید ہیں ،2018 کے الیکشن میں میرے سسر نے حصہ لیا لیکن وہ منتخب نہیں ہو سکے ،انہوں نے کہا کہ بڑے پیر پگاڑا صاحب نے مسلمانوں اور عوام کے حقوق کے لیے عملی جدو جہد کی اور انگریزں نے انہیں پھانسی کی سزا تک سنا دی تھی لیکن افسوس ہے کہ نوجوان نسل کو اس بارے میں کوئی پتہ نہیں کہ پگاڑا فیملی کا پاکستان بنانے میں کتنا اہم کردار تھا اور ہمیشہ سرحدوں کی بھی حفاظت کی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے تھا کہ اس بات کو کہ پگاڑا فیملی اور حروں نے پاکستان بنانے اور بعد میں بھارت کے خلاف ہونے والی جنگوں میں فوج کے شانہ بشانہ اگلے مورچوں پر ملک کی حفاظت کی ،پیر پگاڑا انگریز سامراج کے سامنے کبھی نہیں جھکے اور اپنے عوام کے لیے جنگ لڑی انگریزوں نے کہا کہ سر کا خطاب لے لیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا انہوں نے کہا میرے لیے پیر پگاڑا ہونا ہی کافی ہے اور ان کا نعرہ تھا آزادی ،موت یا کفن۔ حُرفورس کا پورا یونٹ موجود ہے جو فوج کے ساتھ مل کر سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں مسلم لیگ فنکشنل پر طنز کرتی رہتی ہیں کہ ہم فیڈریشن کے حامی ہیں اور ہمیں جی ایچ کیو کے قریب بھی ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں یہ اپنی فوج ہے کوئی بھارتی فوج نہیں ہے ۔ملک بھی اپنا ہے فوج بھی اپنی ہے ،انہوں نے کہا کہ بڑے پیر صاحب کہتے ہوتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہے تو ہر پاکستان کی ملکی سالمیت کے اداروں کے حوالے سے یہی سوچ ہونی چاہیے۔فخر کی بات ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ہیں اس میں باعث شرمند گی والی کوئی بات نہیں ، ایک سوال کے جواب میں سائرہ بانوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات میں جی ڈی اے کو ٹارگٹ کر کے ہرایا گیا تھا میں جھوٹ نہیں بول سکتی جھوٹ بولوں تو زبان اور آنکھیں ادھر ادھر ہو جاتی ہیں ، جی ڈی اے کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا تھا ،انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے نے زیادہ نشستیں جیتی تھی نتائج تبدیل کیے گئے یہ کس کی خواہش پرہوا کس کی ایما پر ہوا میں نہیں جانتی ،سننے میں آتا ہے کہ بعض ناموں کے آگے کراس لگا دیا گیا تھا کہ یہ کسی صورت اسمبلی میں نہیں جا سکتے ۔فہمیدہ مرزا اور غوث بخش مہر کی اپنی ایک سیاسی حیثیت ہے وہ منتخب ہو کر آئیں ہیں ،خان گھڑ میں مہر برادری کا بڑا ووٹ بنک ہے فنکشنل لیگ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے جان بوجھ کرہمیں ٹارگٹ کیا گیا،پیر صدرالدین راشدی کو آبائی نشست پر زبردستی ہرایا گیا اس پر احتجاج ہونا چاہیے تھا ہم وسیع تر ملکی مفاد میں اس وقت خاموش ہو گئے تھے ۔جب ان سے یہ سوال کیاگیا کہ 2018کے انتخابات کے بعد جی ڈی اے از خود عمران خان کی اتحادی بنی تھی یا کسی خاص جگہ سے ہدایات آئیں تھی تو سائرہ بانو نے کہا کہ اس وقت ہوا اس طرف کی چل پڑی تھی اور ہمیں عمران خان کے ساتھ جانا پڑا عمران خان کے حالات بہت موافق تھے وہ ون پیج پر تھے اسٹیبلشمنٹ کی مکمل سپورٹ حاصل تھی ملک کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت تھی وہ کون سے عناصرتھے جنہوں نے عمران خان کو بہتری لانے کی بجائے دوسرے معاملات میں الجھائے رکھا اور عمران خان کو احتساب کے معاملے میں لگا دیا گیا ،ان کے دماغ میں شاید ہوا بھر دی گئی احتساب ہو گیا تو بڑی واہ واہ ہو جائے گی ۔غداری اور کفر کے فتووں میں ہم بیچ میں پھنس گئے ،جب ان سے یہ سوال کیاگیا کہ ججز سے متعلق تو سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کہہ چکے ہیں بعض ججز بیگمات کے زیراثر فیصلے کرتے ہیں تو سائرہ بانو نے کہا کہ عدلیہ کے پہلے کون سا حالات بہت اچھے تھے اور سارے فیصلے انصاف پر کیے جاتے تھے اور جو 50روپے کا سٹام پیپر دے کر دو ہفتے کے علاج کے لیے باہر گیا تھا پانچ سال ہو گئے ہیں وہ واپس ہی نہیں آ رہا وہ کس کی بیگم نے کہا تھا ؟ جس دن فرد جرم عائد ہونی تھی اس دن شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دیا گیا ،انصاف کا نظام ہی نہیں ہے تو کس سے شکوہ کریں عمران خان کو اصلاحات لانے کی ضرورت تھی عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا اس طرف توجہ نہیں دی گئی ،پانامہ کیس کے متعلق سوالات پر انہوں نے کہا کہ مجھے زیادہ تفصیلات کا علم نہیں ہے لیکن اب بہت سے باتیں سننے میں آ رہی ہیں ایک ٹرائیکا تھا جس نے فیصلے کیے نواز شریف نا اہل ہوا اس وقت میڈیا اور دانشور کیوں خاموش ہو گئے تھے،انہوں نے کہا کہ میں ایک ٹی وی شو میں گئی اور میری گفتگو کاٹ دی گئی تو میری تو یہ رائے ہے کہ ٹی وی ٹاک شو والے اپنے شو بند کر دیں اور مارننگ شو شروع کر دیں اور وہاں پوچھیں کہ کیا آج پکایا ہے اور بیوقوف بنانے کے علاوہ اور کیا بنا سکتی ہیں یہ پوچھ لیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تو اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض ہیں میں عوام کے حق میں بات کرتی ہوں اور زیادہ بولتی ہوں تو راجہ ریاض مجھے دیکھتے رہتے ہیں ،میں تو عوام کے حق میں بات کرتی رہوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کو تباہ کیا گیا پی ائی اے کے جو حالات ہیں سب کے سامنے ہیں ،انہوں نے بتایا کہ وہ 1995میں ایوی ایشن انڈسٹری میں تھیں فلائنگ کا بہت شوق تھا کئی کورسز بھی کر لیے تھے ،پی پی ایل اور سی پی ایل بھی کرنا پڑتا ہے پائلٹ بننے کے لیے بہت اونچی سفارش ہونی چاہیے ،فلائنگ کورس کے لیے میں نے ڈالرز جمع کیے لیکن نوازشریف نے فارن کرنسی اکائونٹس منجمند کردیئیتب سے دل پہ ن لیگ کے زخم لگائے بیٹھی ہوں ۔انہوں نے کہا کہ موٹر وے پر سفر کرنا اچھا لگتا ہے ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے سندھ کے غریبوں کو بھکاری بنا دیا گیا،جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ سیاسی مستقبل مریم نواز کا ہے یا بلاول بھٹو کا تو سائرہ بانو نے برجستہ جملہ کستے ہوئے کہا کہ مستقبل آ تو جائے۔جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس سال نومبر میں الیکن ہونے والے ہیں تو انہوں نے کہا الیکشن کاکوئی فائدہ نہیں ہے الیکشن کو مانے گا کون ؟طلال چوہدری یہ بیان دے چکا ہیکہ کراچی کے میئر اور باغ جیسے الیکشن ہوئے تو ہم نہیں مانیں گے یہ تو آپس میں لڑ پڑیں ہیں ،ججز کی تنخواہوں میں دو لاکھ اضافے پر تنقید کرتے ہوئے سائرہ بانو نے کہا کہ پہلے زیر التوا کیسز تو نپٹا دیں عوام کو انصاف تو فراہم کر دیں ،غریب مر رہے ہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بہت کم اضافہ ہوا اور ججز کون سی مخلوق ہیں جو ان کی تنخواہ میں دو لاکھ اضافہ کر دیا گیا ، پٹرول عوام کے ٹیکسوں
سے ملتا ہے دیگر مراعات بھی ان کو بہت سی ملتی ہیں ۔ کیا آئی ایم ایف سے قرضہ بیوروکریسی کی مراعات ججز کی تنخواہوں میں اضافے اور اشرافیہ کوخوش رکھنے کیلیے لیا گیا ہے یا غریبوں کا بھی کوئی فائدہ ہو گا ،صاف پانی عوام کو نہیں ملتا ،وزیرخارجہ اپنے گھر میں ٹینکر کے ذریعے پانی ڈلواتا ہے ، کے فور منصوبے کی باتیں کی جاتیں ہیں عملاً کچھ نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ 80وزراء ہیں خدا کاخوف نہیں کل کہیں ایسا نہ ہو جائے 80وزیر ہیں ملک پھر بھی نہیں چل رہا یہ نہ ہو کہ ہم صبح اٹھیں تو ہمارے بارے میں او ایل ایکس میں برائے فروخت اشتہارڈالے ہوئے ہوں ۔
سائرہ بانو