اسلام آباد:وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ اس وقت سول اور عسکری قیادت کے درمیان اچھی ورکنگ ریلیشن شپ اور بہت اچھااعتماد کا رشتہ ہے، نگران وزیراعظم کے لئے ریٹائرڈبیوروکریٹ یا سیاستدان پر غورہوسکتا ہے،الیکشن سے پہلے نواز شریف کا ملک واپس آنابہت ضروری ہے ،ہمیں عدلیہ کے ’’گڈٹو سی یو‘‘ والے رویے سے خدشہ ہے ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے لئے وزیراعظم نے اپناسب کچھ داؤپرلگا دیا،آئی ایم ایف سے متعلق کچھ دوستوں سے سنگینی نہیں سمجھی ،لفظی گولہ باری کی ،پروگرام نہ ملتا تو معاشی تباہی کا خدشہ تھا،سیدھی سیدھی بات ہے ہم اپنے گھر کو درست نہیں کرپارہے، مالیاتی نظم ضبط نہیں لاسکتے تو کسی اور کو الزام دیں،پورا ٹیکس نہیں دیتے ،بجلی چوری نہیں روک سکتے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت سول اور عسکری قیادت کے درمیان اچھی ورکنگ ریلیشن شپ اور بہت اچھااعتماد کا رشتہ ہے، اسمبلیاں اپنے وقت سے ایک دوروز پہلے تحلیل ہوجائیں گی، نگران وزیراعظم کے لئے ابھی تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا،نگران وزیراعظم کے لئے ریٹائرڈبیوروکریٹ یا سیاست دان پر غورہوسکتا ہے، فی الحال ایساکوئی امکان نظر نہیں آتاکہ الیکشن میں تاخیر ہوجائے۔وزیردفاع نے کہاکہ الیکشن سے پہلے نواز شریف کا ملک واپس آنابہت ضروری ہے،نوازشریف سے زیادتی کی تلافی اور درستی ضروری ہے ،کچھ اتناضروری نہیں جتناالیکشن سے پہلے نوازشریف سے زیادتی کی تلافی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ورکرز ساڑھے تین سال سے انتظار کررہےہیں کہ نوازشریف واپس آئیں، ہمیں ایک ڈیڑھ ماہ بھی مل جائیں تو نواز شریف جوانتخابی مہم چلائیں گے، دنیادیکھے گی ۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف کو کس نے ٹارگٹ کیا؟حامد خان نے کہاہے کہ فیصلہ ہوچکاتھا، ہمیں عدلیہ یے گڈٹو سی یو والے رویے سے خدشہ ہے ،ہمیں خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ کسی اور طرف نہ چل پڑے۔
اس وقت سول اور عسکری قیادت کے درمیان اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ،اعتماد کا رشتہ ہے،وزیردفاع








