پاکستان کے شمالی علاقے دیر بالا کے رہائشی نصراللہ کی محبت میں پاکستان پہنچنے والی شادی شدہ بھارتی لڑکی ھارتی لڑکی انجو اپنے شوہر کو بتا کرآئی تھی کہ وہ جے پور جارہی ہے۔ انجو نے اروند سے شادی کیلئے عیسائیت قبول کی تھی۔
انجو کے حوالے سے سرکاری ادارے تحقیقات کر رہے ہیں تاہم 4 بچوں کے ہمراہ پاکستان سے بھارت جانے والی سیما کے برعکس انجو قانونی طور پر ویزا لے کر پاکستان پہنچی ہے۔
راجستھان کے ضلع بھیواڑی سے تعلق رکھنے والی انجو کی پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا ہ کے رہائشی نصراللہ سے فیس بُک پر دوستی ہوئی اور انہیں ایک دوسرے سے محبت ہوگئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انجو نے اپنے شوہر اروند کو بتایا تھا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے جے پور جا رہی ہے۔ لیکن اتوار کو اروند کو میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ انجو سرحد پار گئی ہے۔
اروند کا کہنا ہے کہ انجو واٹس ایپ کے ذریع رابطے میں رہتی تھی اتوار کی شام تقریبا 4 بجے انجو نے انہیں فون کیا اور بتایا کہ وہ لاہور میں ہے اور دو تین دن میں واپس آ جائے گی۔
پاکستان میں انجو کے مبینہ عاشق کے بارے میں پوچھے جانے پر اروند نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی بیوی ان کے پاس واپس آئے گی۔
اروند راجھستان کے شہرا بھیواڑی میں کام کرتا ہے اور انجو ایک نجی فرم میں بائیو ڈیٹا انٹری آپریٹر کے طور پر ملازم ہے۔
انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے اروند نے کہا کہ انجو نے 2020 میں اپنا پاسپورٹ بنوایا تھا کیونکہ وہ بیرون ملک ملازمت کے لئے درخواست دینا چاہتی تھیں۔
انجو اور اروند کے 2 بچے ہیں اور یہ شادی انجو کے عیسائیت قبول کرنے کے بعد ہوئی تھی۔
اروند کی فیملی انجو کے بھائی کے ساتھ بھیواڑی میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پزیر تھی۔
راجستھان سے پاکستان تک
جمعرات کو انجو جے پورجانے کے بہانے بھیواڑی میں واقع اپنے گھر سے نکلی تھی۔ اس کے بعد وہ اپنے 29 سالہ فیس بک دوست نصر اللہ سے ملنے کے لیے پاکستان گئیں۔ دونوں کی چند ماہ قبل فیس بک پر دوستی ہوئی تھی۔
انجو ابتدائی طور پر پولیس کی تحویل میں تھی لیکن سفری دستاویزات کی تصدیق کے بعد اسے رہا کردیا گیا۔









