اسلام آباد(ممتازنیوز) اس وقت عمران خان کے قریبی سمجھے جانے والے معروف قانون دان سینیٹر اعتزازاحسن نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی سے متعلق یوٹرین لے لیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہاعمران خان کے یوٹرنز مشہور ہیں۔چونکہ وہ ملزم ہے ان کو اپنا بیان بدلنے کا پور ا پورا حق ہے۔ انہوںنے امریکی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزم جو بھی کہے اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا ، وکلاء ان کو مشورے دیتے ہونگے کہ اپنے دفاع میں اسطرح کے بیان دو۔ صحافی نے اعتزاز احسن سے سوال کیا کہ عمران نے اپنے دور حکومت میں جلسے کے دوران ایک کاغذلہرایا تھا وہ سائفر نہیں بلکہ ایک عام کاغذ تھا۔ صحافی نے دوسرا سوال کیا کہ عمران خان صادق اور آمین ہے؟ جس پر اعتزاز احسن کہا کہ نہیں اسے اہم اسطر ح بیان نہیں کرسکتے اس کے لئے مختلف پیمانے اور کڑی شرائط ہیں۔ صحافی نے تیسرا سوال کیا کہ آپ کی پارٹی نے عمران خان کو سلیکٹیڈ کا لفظ دیا تھاکہ آپ بھی اتفاق کرتے ہیں ، اعتزاز احسن نے بلند آواز میں کہا کہ کمال کیا تھا۔ اس میں اس کی تعریف کر چکاہوں۔ بلاول کی تقاریر کی تعریف کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ پارلیمانی الفاظ میں بلاول کی تقریر قابل تعریف ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ آپ مانتے ہیں کہ عمر ان سلیکٹیڈ تھے ؟ اعتزاز احسن نے سوال کے جواب میں کہا کہ بلاول نے سلیکٹ کے لفظ میں صرف ایس لگادیا اورپورے لفظ کامعنی بدل گیا۔پارٹی ڈسپلن کیخلاف نہیں ہوں۔
صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان گرفتار ہوتے ہیں تو آپ ان کی وکالت کریں گے؟انہوںنے کہا کہ وکالت کرنے ان کے اور ہیںڈ اکٹروں نےآج کل ٹینشن والے کیسزلینے سے منع کیا ہے۔
عمران خان کے یوٹرنز مشہور، اعتزاز احسن کی چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے سلیکٹیڈکے لفظ پر بلاول کی تعریف








