بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

الیکشن میں اتحادیوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے،جیتے تو وزارت عظمیٰ کے امیدوار نوازشریف ہوں گے ،شہبازشریف

اسلام آباد(ممتازنیوز) وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی سمیت تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے،جہاں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت نہیں وہاں مسلم لیگ(ن) اپناامیدوار کھڑا کرے گی،الیکشن جیتے تو وزارت عظمیٰ کے امیدوار نوازشریف ہوں گے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیںشہبازشریف نے کہاکہ ہمارے پندرہ ماہ میں پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا ہے،پاکستان کا جواپنے برادر اور دوست ممالک میں وقار کھوچکاتھااسے دوبارہ بحال کیاہے، روس سے سستاتیل خریداہے، کووڈ کے بعد قدرتی گیس کی قیمتیں زمین بوس ہوچکی تھے ،عمران نیازی اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے تاکہ اپوزیشن کوملیامیٹ کرکے آمریت لے آئیں گے،چیئرمین پی ٹی آئی کی ملک دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،انہوں نے سستی ترین گیس نہ لے کرملک کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا ،ہم نے آذربائیجان سے سستی گیس کا معاہدہ کیاہے،اس معاہدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ قیمتیں قبول ہوئیں تو گیس لیں گے،ہمارے ان پندرہ ماہ میں بدعنوانی کاکوئی ایک معاملہ یاسکینڈل سامنے نہیں آیا، دس سال میں گندم کی بمپر فصل ہوئی،اسی طرح کپاس کی ریکارڈپیداوار ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ قومی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان کا چہرہ ہشاش بشاش رہتا ہے اوراللہ تعالیٰ چھوٹی موٹی کامیابی بھی عطاکررہاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تنخواہ دار طبقے کےلئے جو اضافہ کیاوہ عام آدمی کی سوچ سے بھی زیادہ ہے، یہ خیال تھا کہ شہبازشریف بیس فیصدیاپچیس فیصد تنخواہیں بڑھادے گامگرہم نے گریڈاٹھارہ تک پینتیس فیصداور 18 سے اوپرتیس فیصدتک اضافہ کیا،میں نے فیصلہ کیاتھاکہ اس معاملے پر آئی ایم ایف کا دباؤ آیا تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے،پھرپنجاب میں محسن نقوی کو مشورہ دیا کہ وفاق جیسی تنخواہیں صوبے میں بھی بڑھائیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں گیس کے دریافت ہونے والے ذخائر آٹے میں نمک کے برابر ہیں،سوئی کے ذخائرکو بھی ہم نے ستر سال میں جس طرح سےخرچ کیاہے وہ کوئی قابل تحسین پالیسی نہیں تھی،ہم نے قطر سے بھی گیس فراہمی کے معاملے پر بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپرٹیکس صرف بڑے بڑے لوگوں اور بڑے بزنس ہاوسز کی آمدن پر لگایاگیا ہے،کارپوریٹ سیکٹر بہت حد تک ٹیکس دیتاتھا ۔وزیراعظم نے کہاکہ نوازشریف کوسازش کے تحت جھوٹے مقدمے میں سزا دلوائی گئی،آج ساری سازش بے نقاب ہوچکی ہے،اس سازش کے تانے بانے ثاقب نثارسے ملتے ہیں،پانامہ میں چارسولوگوں کے نام تھے مگر سزا صر ف نوازشریف کو ہوئی،ثاقب نثار نے سازش کا جال بنا،پانامہ سے اقامہ بنایا ۔ انہوں نے کہاکہ عمران نیازی پرہم نے کوئی پابندی نہیں لگائی ،پیمرا کے مروجہ قانون کا سب کو احترام کرناپڑے گا۔وزیراعظم نے کہاکہ ثاقب نثار کے خلاف کارروائی کا جہاں تک تعلق ہے عدلیہ کو نوٹس لیناچاہئے عدلیہ کے ججز نے ازخود نونس لینے میں پھرتی دکھائی ہے معلوم نہیں اس میںمعاملے میں کیا رکاوٹ حائل ہے، ہر کام کے لئے وقت مقررہوتاہے، جنہوں نے ملک کے خلاف سازش کی ہے ان کے خلاف احتساب کا عمل ضرورہوناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف علاج کے لئے باہر گئے تھے ،اس سلسلے میں میڈیکل بورڈ میں نےنہیں بنایاتھاعمران نیازی نے بنایاتھاجس میں انہوں نے شوکت خانم سے اپنے ایک عزیزکو بھی شامل کیاتھااس بورڈنے لکھ کردیاتھاکہ نوازشریف کا علاج باہرہوناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ اللہ نے تو نوازشریف چند ہفتوں میں واپس آجائیں گے اوروہ آئین اور قانون کا سامناکریں گے،وہ عمران نیازی کی طرح نہیں جو کبھی ٹوپ پہن لیتے ہیں اور کبھی عدالت نہیں آتے،وہ ملک میں ہوتے ہوئے بھگوڑے ہیں،نوازشریف اور اپوزیشن کو دھکے ملتے تھے اب یہاں ایک ایک سیکنڈمیں ضمانت مل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ نومئی پاکستان، افواج پاکستان اور سپہ سالار جنرل عاصم منیر کے خلاف سازش تھی ،یہ ایک قبیح ساز ش تھی کہ پاکستان کی فوج کا تختہ الٹ دیاجائے اور ملک میں انارکی ہو،نومئی کے سرغنہ چیئرمین پی ٹی آئی تھے ، چیئرمین پی ٹی آئی ان کے حواری ،سیا سی جتھہ، کچھ فوجی اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے ،میں یہ باتیں سو فیصد ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کررہاہوں ،یہ طے ہوا ہے کہ جنہوں نے سویلین تنصیبات پر حملے کئے ان پر انسداددہشت گردی کی عدالتوں اورجنہوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کئے ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے،حکومت اس ضمن میں اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے باقی کام اداروں نے کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ نیب قانون میںتبدیلیاں اس لئے کی گئیں تاکہ یہ ملک آگے چلے،چیئرمین پی ٹی آئی نے نیب کے گٹھ جوڑ سے ظلم کیا، انہوں نے نیب کے ذریعے قوم کی ترقی روک دیا،کاروباری افراد نے نیب کے خوف سے سرمایہ لگانابندکردیاتھا،ہم نے نیب کیسز میں نئے قانون کا سہارا نہیں لیا،سائفرکے معاملے پر عدالت میں کیس چل رہا ہے،انتقامی کارروائی کا لفظ ہماری ڈکشنری میں نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی کی مدت بارہ اگست کوپوری ہورہی ہے،جسے اس سے پہلے تحلیل کرنے کے لئے مشاورت کے بعد صدر کو سمری بھیج دیں گے، نگران وزیراعظم کےلئے اتحادیوں اور نوازشریف کی رہنمائی کے بعد قائدحزب اختلاف سے مشاورت کروں گا اور نگران وزیراعظم کا تقررکرلیاجائےگا،اگرخدانخواستہ ایسانہ ہوا تو پھر قانون اپناراستہ خود بنائے گا، اطمینان رکھاجائے کہ مرکز میں ایک قابل ٹیم آئے گی جو عبوری مدت میں معاملات کو بہتراندازمیں چلائے گی ۔انہوں نے کہاکہ آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کراناالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔