پاکستان کو بڑا پیٹرولیم لاجسٹک اور ٹریڈنگ حب بنایا جائے گا۔ کنسلٹنسی فرم ٹیکنیک کو فزیبلٹی اسٹڈی سونپی گئی ہے، ذرائع وزارت پیٹرولیم
تفصیلات کے مطابق مجوزہ آئل سٹی میں آف شورسنگل سہولت کےتحت بڑے تیل بردار جہازلنگرانداز ہوسکیں گے۔ آئل سٹی منصوبے میں وسیع پیمانے پر بانڈڈ اسٹوریج سہولیات فراہم کی جائے گی ۔
جہاں بین الاقوامی کمپنیاں ڈیوٹی اور ٹیکس کی فوری ادائیگی کےبغیر ذخیرہ کرسکیں گے۔ آف شورٹرمینل کو دو نئی مخصوص پائپ لائنز کے ذریعے قومی سپلائی نیٹ ورک سے جوڑنےکی تجویز ہے۔
مزید پڑھیں:حکومت کا 2 ہزار سی سی مقامی ہائبرڈ گاڑیوں کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا اعلان
ایک پائپ لائن خام تیل کو کیماڑی تنصیبات تک پہنچائے گی۔ دوسری پائپ لائن پٹرولیم مصنوعات کو پورٹ قاسم اور وائٹ آئل پائپ لائن سےمنسلک کرے گی۔موجودہ وائٹ آئل پائپ لائن اور دیگر قومی پائپ لائن نیٹ ورک سےمنسلک ہوگا۔









