اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران جج ہمایوں دلاور اور نیاز اللہ نیازی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
نجی ٹی وی کے مطابق دوران سماعت وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ کیا جلدی ہے ، ٹرائل تو کئی عرصہ چلتے ہیں، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں؟وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ توشہ خانہ میں بی ایم ڈبلیو کا معاملہ بھی ہے، قوم جانتی ہے، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی سے کہاں تھا کہ آپ کی قانونی ٹیم آپ سے مخلص نہیں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں وقفے کے بعد توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہاکہ معافی چاہتا ہوں، میں یونیفارم میں نہیں، وکیل پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہاکہ میراجمعہ عدالت کی وجہ سے رہ گیا ہے، جمعہ کے دن کچہری کا وقت ساڑھے 12بجے تک کا ہوتا ہے۔
جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں کیا ہوا ہے؟وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہاکہ خواجہ ھارث کے سپریم کورٹ میں دلائل جاری ہیں، خواجہ حارث آج اور کل شاید دستیاب نہ ہوں، ہم کہاں دوڑے جا رہے ہیں۔
جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ خواجہ حارث نہیں تو آپ دلائل دے دیں،چیئرمین پی ٹی آئی کے اتنے وکلا ہیں،نیاز اللہ نیازی نے کہاکہ میں کبھی پہلے دلائل دینے سے بھاگا ہوں،جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ آپ سے قبل عاصم بیگ آئے تھے، وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ مرزا عاصم بیگ کو چھوڑ دیں۔
جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ کیوں چھوڑ دیں مرزا عاصم بیگ کو؟وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ کیا جلدی ہے ، ٹرائل تو کئی عرصہ چلتے ہیں، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں؟وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ توشہ خانہ میں بی ایم ڈبلیو کا معاملہ بھی ہے، قوم جانتی ہے، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی سے کہاں تھا کہ آپ کی قانونی ٹیم آپ سے مخلص نہیں، توشہ خانہ کیس کیلئے آج عدالت میں 3کالز کی گئیں، پی ٹی آئی نے درخواست کی کہ اعلیٰ عدلیہ میں درخواستیں پینڈنگ ہیں، پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے کہا کہ خواجہ حارث آج پیش نہیں ہو سکتے، عاصم بیگ، نعیم پنجوتھا، نیاز اللہ نیازی عدالت میں موجود تھے،
جج نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اپنے حتمی دلائل صبح 10بجے تک مکمل کئے، ساڑھے 12بجے وکیل عاصم بیگ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں مصروف ہیں۔
جج ہمایوں دلاور نے نیاز اللہ نیازی سے استفسار کیا کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں؟پی ٹی آئی وکیل نے کہاکہ بس یہی کہہ رہا ہوں کہ خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں مصروف ہیں، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ بیرسٹر گوہر علی اور نیاز اللہ نیازی چیئرمین پی ٹی آئی کے سینئر وکیل ہیں، نیازی اللہ نیازی کو حتمی دلائل دینے کیلئے ہدایت کی گئی ، نیاز اللہ نیازی نے کہاکہ میں دلائل نہیں دےسکتا، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ جواب دیں کیا آپ دلائل دے سکتے ہیں یا نہیں؟نیاز اللہ نیازی نے کہاکہ میں تو معاون وکیل ہوں، خواجہ حارث اور گوہر علی دلائل دیتےہیں۔
جج ہمایوں دلاور نے نیاز اللہ نیازی سے استفسار کیا تو پھر آپ کیا کررہے ہیں اس کیس میں؟ نیاز اللہ نیازی نے بتایا کہ انہیں دلائل دینے کی ہدایت نہیں کی گئی ، پی ٹی آئی وکیل نیاز اللہ نیازی نے بتایا خواجہ حارث ہی سینئر وکیل ہیں،وہی دلائل دیں گے،وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ خواجہ حارث کے سپریم کورٹ میں دلائل جاری ہیں۔









