بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سراج الحق کی بجلی کے بلوں میں ریلیف کیلئے حکومت کو کل تک کی ڈیڈ لائن

لاہور(ممتاز نیوز)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ملک گیر کامیاب شٹر ڈاؤن پرتاجر برادری سمیت پوری قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں نے ساری دنیا کو پیغام دے دیا کہ وہ پرامن، آزاد، خودمختار ہیں اور انہیں آئی ایم ایف، امریکا یا اس کے غلاموں کے تھوپے ہوئے فیصلے قبول نہیں۔
ہفتہ کو تمام چھوٹے بڑے شہروں میں 80 لاکھ دکانیں بند رہیں، باعث اطمینان ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ کہیں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا، ہڑتال سے متعلق بدامنی کا پروپیگنڈہ ناکام ہوگیا، قوم متحد ہے، ہڑتال عوام کی جانب سے پیغام ہے کہ پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی سابقہ حکومتوں کے فیصلوں کا تسلسل ختم کیا جائے، نگرانوں کو اختیار نہیں کہ بجلی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کریں۔ پی پی،ن لیگ اور پی ٹی آئی نے آئی پی پیزاور آئی ایم ایف سے ان کی مرضی کے معاہدے کرکے قوم کو ہتھکڑیاں پہنائیں، وہ دن دور نہیں جب یہی ہتھکڑیاں ان کے ہاتھوں میں ہوں گی، لوگ بیدار ہیں، اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ حکمرانوں کو کل تک کی مہلت دیتا ہوں کہ عوام کوبجلی بلوں پر ریلیف دیا جائے، تحریک نہیں رکے گی، قوم کا مطالبہ نہ مانا گیا تو اتوار کو آئندہ لائحہ عمل دوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مال روڑ لاہور پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بعدازاں انہوں نے سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ایڈووکیٹ دیگر قائدین اور میڈیا کے نمائندوں کے ہمراہ مال روڑ، ہال روڑ، برانڈرتھ روڑ، شاہ عالم مارکیٹ، اکبری منڈی، اعظم مارکیٹ اور صوبائی دارلحکومت کی دیگر مارکیٹوں کا دورہ کیا، تاجر رہنماؤں سے ملاقات کیں اورمارکیٹیں بند رکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ امیر جماعت نے وکلا برادری، مزدور یونینز اور دیگر طبقہ ہائے فکر کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نگران حکومت کے گلے میں مردہ معیشت کا سانپ ڈال کر خود لندن چلے گئے۔کاکڑ صاحب آئی ایم ایف کے مفادات کی بجائے قوم کی ترجمانی کریں، نگران وزیراعظم نے بجلی کی قیمت اورمہنگائی سے متعلق بیان دے کر عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی، ان کا بیان زمینی حقائق کی نفی ہے، بدقسمتی سے جو وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے، حقائق سے نظرچرانا شروع کردیتا ہے۔14 اگست کو نگران حکومت آئی، 15 اگست کو پٹرول کی قیمت میں 20روپے لٹر اضافہ کردیا گیا، لوگ بجلی کے بلوں کو رورہے تھے کہ دوبارہ پٹرول بم گرادیا گیا،یہ ظلم و ناانصافی ہے۔ حکمران آئی ایم ایف یا امریکہ کی غلامی کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی، پاکستانی آزاد ہیں، کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، عوام کو ریلیف دینا پڑے گا، تاویلیں دی جاتی ہیں کہ قرضہ اتارنا ہے اس لیے عوام کو بوجھ برداشت کرنا پڑے گا، ہمارا موقف ہے کہ جنہوں نے قرضہ ہڑپ کیا ان کی جائدادیں نیلام کرکے ادا کیا جائے، غریب نے قرض لیا نہ وہ ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آٹا، چینی دو سو روپے کلو تک پہنچ گئے، آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدی جاتی ہے، اضافی بجلی کابوجھ بھی عوام پر ڈال دیا جاتاہے، ہمارا مطالبہ ہے آئی پی پیز معاہدوں پرنظرثانی کی جائے، ہزار ارب سالانہ کی بجلی چوری، لائن لاسز پر قابو پایا جائے، حکمران طبقات، آفیسرز کو مفت بجلی سہولت ختم کی جائے، بجلی بلوں میں 16اقسام کا ٹیکس ختم کرکے عوام سے اصل بجلی کی قیمت وصول کی جائے،سولر سسٹم پر عوام کو ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پاکستانیوں کا ہے، وہی اس کی حفاظت کریں گے۔ وعدہ کرتا ہوں کہ قوم کو حق دلائیں گے، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔مزید برآں امیر جماعت کی اپیل پر بجلی بلوں میں ظالمانہ اضافہ کے خلاف لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ،راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، دیر، مردان، شیخوپورہ، گجرانوالہ، گجرات، جھنگ، حیدرآباد، سکھر سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مارکیٹیں بند رہیں۔ تمام شہروں میں جماعت اسلامی کے مقامی قائدین کی جانب سے پرامن ریلیاں نکالی گئیں جن میں عوام کی بڑی تعدا دنے شرکت کی اور مہنگائی کے خلاف نعرے لگائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی، پٹرول، اشیاخورونوش کی قیمتوں میں فی الفور کمی جائے۔