اسلام آباد(طارق محمود سمیر)سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے اپنے خلاف 9مئی کے بعد بننے والے مقدمات کو عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کرنے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد یہ معاملہ میڈیا میں بہت زیادہ زیر بحث آرہا ہے اور جس وکیل بیرسٹر جیفری رابرٹسن کو عمران خان نے اپنا وکیل مقررکیا ہے وہ پہلے ہی ایک متنازعہ وکیل تصورکیا جاتا رہا ہے ، وہ اس سے قبل اسلام مخالفت کتابیں لکھنے والے ملعون سلمان رشدی جس کیخلاف توہین رسالت کا مقدمہ چلتا رہا وہ سلمان رشدی کا نہ صرف وکیل رہا بلکہ اسے اپنے گھر میں پناہ بھی دی جس کا وہ اعتراف کرتا رہا،یہی بیرسٹر جیفری رابرٹسن حضرت عیسیٰ کیخلاف توہین آمیز نظم شائع کرنے والے ایک میگزین کا بھی وکیل رہ چکا ہے ۔عمران خان کو حال ہی میں توشہ خانہ کیس میں تین سال قیدکی سزا ہوئی اور وہ اٹک جیل میں ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کو معطل کر کے رہا کرنے کا حکم دیا مگر حکومت نے انہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں سائفر کیس میںگرفتارکر رکھا ہے اور وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔ عمران خان کی حمایت میں امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آواز اٹھاتی رہی ہیں حالانکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب عمران خان اقتدار سے محروم ہونے لگے تو انہوں نے سائفر کا سہارا لے کر امریکا کو نشانہ بنایا اور امریکی مداخلت کے الزامات لگائے، اب ان کی طرف سے اپنے کیس کیلئے ایک متنازعہ وکیل کی خدمات لینا قابل تحسین بات نہیں ہے،برطانیہ اور دیگر ممالک میں اور بھی تجربہ کار وکلاء موجود ہیں ان کی خدمات کیوں نہیں لی گئیں، یہ ایک بڑا سوال ہے، ویسے عالمی عدالت انصاف میں تو ممالک کے درمیان تنازعات اٹھائے جاتے ہیں، ہاں اگر کسی ملک میں سیاسی رہنما کے خلاف انتقامی کارروائی ہورہی ہو تو بیرونی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز بلند کرتی رہتی ہیں اور ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے ، تحریک انصاف کے چیئرمین نے بیرسٹر جیفری رابرٹسن کی خدمات لینے کے معاملے پر جو ردعمل دیا ہے اس میں تردیدکی گئی ہے کہ ایسے کسی وکیل کی خدمات نہیں لی گئیں جبکہ لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیرسٹر جیفری رابرٹسن نے کلائنٹ کے کہنے پر اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا ہے کیونکہ ان کے کلائنٹ کو تنقیدکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔علاوہ ازیں عمران خان کے خلاف سائفرکیس میں اٹک جیل میں ضمانت کی درخواست پر ان کیمرا سماعت بھی ہوئی ۔عدالت نے 4ستمبر تک سماعت ملتوی کی ہے ،عمران خان کے وکلاء نے احتجاج کیا کہ انہیں ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چلا کر اٹک جیل لایا جاتا ہے ،عمران خان کا مقدمہ جیل کی بجائے کھلی عدالت میں چلایا جائے ، ضمانت کی اس درخواست پر اب اہم سماعت پیرکو ہوگی، اس کیس میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی گرفتار ہیں اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے ۔علاوہ ازیں بھارت میں آئندہ ہفتے جی 20کانفرنس منعقد ہورہی ہے ، چین کے بعد روس کے صدر پیوٹن نے بھی بھارت کا دورہ کرنے سے انکار کردیا ہے، چینی صدرکانفرنس میں شرکت نہیںکر رہے اور ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس سے خطاب کریںگے ، دو اہم ممالک کے صدورکا جی ٹوئنٹی کانفرنس میں شرکت نہ کرنا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ یہ دونوں ممالک بھارت کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں ، حال ہی میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر ایک وزیر کو بھیجا گیا تو انہوں نے جہاز سے اترنے سے انکار کردیا اور ایک گھنٹہ سے زائد تک جہاز میں بیٹھے رہے اور حکام کو یہ پیغام بھجوایا کہ جب تک جنوبی افریقہ کے صدر استقبال کرنے نہیں آئیں گے وہ جہاز سے نہیں نکلیںگے جس پر جنوبی افریقہ کے نائب صدرکو استقبال کیلئے بھجوایا گیا ، چینی صدر جب جنوبی افریقہ پہنچے تو ان کو مکمل پروٹوکول اور عزت واحترام دیا گیا اور جنوبی افریقہ کے صدر خود استقبال کیلئے ایئرپورٹ آئے اور یہ واضح پیغام دیا کہ وہ بھارت کی نسبت چین سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔جی ٹوئنٹی کانفرنس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی شرکت کر رہے ہیں اور ان کے پاکستان آنے کی اطلاعات ہیں تاہم اس حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہے اور سعودی عرب کی طرف سے ایم بی ایس کے دورہ پاکستان کا سرکاری طور پرکوئی اعلان نہیںکیا گیا اور نہ ہی ابھی تک پاکستانی دفتر خارجہ نے سرکاری اعلان کیا ہے، میڈیا میں متضاد اطلاعات چل رہی ہیںکہ سعودی ولی عہدکا دورہ پاکستان ملتوی کردیا گیا ہے جس کی سرکاری سطح پرکوئی تصدیق نہیں ہوئی، سعودی عرب اور پاکستان بہت قریبی دوست ہیں اور دونوں نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور حال ہی میں پاکستان میں معاشی بحران کوکنٹرول کرنے کیلئے سعودی عرب نے پاکستان کی بہت مددکی جبکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی سعودی عرب سے اچھی خبریں آرہی ہیں ۔
چیئرمین پی ٹی اآئی کے متنازعہ وکیل بیرسٹر جیفری رابرٹسن نے کس کے کہنے پر اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا؟تجزیاتی رپورٹ میں بڑا انکشاف








