بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کوئٹہ میں درخت کاٹنے والے شخص کو 12 لاکھ روپے جرمانہ

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ میں ایک درخت کو غیر قانونی طور پر کاٹنے کے مقدمے میں ایک شہری پر 12 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ۔محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ شہر کی تاریخ میں ساڑھے چار سے پانچ ماہ کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا جرمانہ ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر انگریزوں کے دور کے فاریسٹ ایکٹ پر انحصار کیا جاتا تو ایک درخت کو غیر قانونی طور پر کاٹنے کا جرمانہ صرف 40-200 روپے تک ہوتا لیکن جرمانے کی رقم کو بڑھانے کے لیے دوسرے قوانین کو لاگو کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق کسی علاقے میں بہتر ماحول کے لیے اس کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے لیکن بلوچستان میں یہ بمشکل ڈیڑھ فیصد ہے۔محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کوئٹہ ڈویژن کے کنزرویٹر نیاز کاکڑ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان میں درختوں کو کٹائی سے بچانا ناگزیر ہے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ اس لیے لگایا جارہا ہے تاکہ آئندہ کوئی درختوں یا جنگلات کو کاٹنے کی جرات نہ کر سکے۔ نیاز کاکڑ نے بتایا کہ یہ درخت توت کا تھا جس سے آس پاس کے لوگوں کو بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’بالخصوص ایک بابا کو اس سے بہت لگاؤ تھا جنھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے اسے اپنے ہاتھوں سے پانی دیتے اور اس کا خیال رکھتے آ رہے تھے۔ نیاز کاکڑ نے بتایا کہ درخت کے ساتھ پلاٹ پر تعمیرات ہو رہی تھیں جس کے باعث اس درخت کو رات کی تاریکی میں کاٹا گیا تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ ان کا کہنا تھا کہ’درخت کو اس انداز سے کاٹا گیا تھا کہ اس کا نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا لیکن محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے وہاں کھدائی کر کے اس کی جڑوں کا سراغ لگا کر شواہد حاصل کیے۔‘انھوں نے بتایا کہ زیر تعمیر سائٹ کے چوکیدار سے یہ معلوم ہوا کہ اس درخت کو زیر تعمیر عمارت کے مالک محمد نعیم اچکزئی نے کاٹا ہے جس پر ان کے خلاف مقدمہ بنا کر چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔
کوئٹہ شہر کے ممتاز سماجی کارکن اور پرنس روڈ اور اس سے متصل علاقوں کی یونین کونسل کے سابق ناظم اسلم رند نے بتایا کہ یہ درخت عبد الستار روڈ اور آرچر روڈ کے سنگم پر تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ درخت بہت پرانا تھا جسے گذشتہ ماہ کی 7 تاریخ کو رات کی تاریکی میں کاٹا گیا۔