اسلام آباد(طارق محمود سمیر)پیپلزپارٹی کے چیئرمین وسابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جہاں سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد میاں نوازشریف کی21اکتوبر کو وطن واپسی کا خیر مقدم کیا ہے وہیں انہوں نے نوازشریف کے استقبال کیلئے اب تک کی تیاریوں پر نہ صرف تشویش کا اظہار کردیا ہے بلکہ یہ طنز بھی کیا ہے کہ ن لیگ کے سابق وفاقی وزراء کہاں چھپ گئے ہیں،البتہ انہوں نے سابق وزیردفاع خواجہ آصف کی سرگرمیوں اور سیالکوٹ میں ہفتہ کے روز کی گئی پریس کانفرنس کو سراہا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب بینظیر بھٹو شہید جلاوطنی کے بعد واپس آرہی تھیں تو پورے ملک میں تیاریاں کی گئی تھیں اور وال چاکنگ کے علاوہ کارکنوں کو جمع کرنے کیلئے صوبائی ڈویعنل اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، ن لیگ کے سابق وزراء کو چاہئیے کہ ان کے قائد چار سال کے بعد واپس آرہے ہیں اور وہ خاموش بیٹھے ہیں ، ابھی تک واک چاکنگ نہیں ہوئی ، نوازشریف کی واپسی کا شور نہیں مچا،بلاول بھٹو نے خواجہ آصف کی تو تعریف کردی کیونکہ خواجہ آصف کی پریس کانفرنس میڈیا میں براہ راست دکھائی گئی اور دیگر سابق وزراء پرجو طنز کیا ہے اس میں کافی حد تک صداقت ہے کیونکہ صرف چند سابق وفاقی وزراء ہی بہت متحرک نظر آرہے ہیں جن میں خواجہ آصف اور سعد رفیق نمایاں ہیں ،نوازشریف کی واپسی ن لیگ کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے اور استقبال اگر توقعات کے مطابق نہ ہوا تو پھر سیاسی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھ سکتی ہیں ،دوسری جانب مولانا فضل الرحمان جن کی خیبرپختونخوا میں مقبولیت پی ڈی ایم حکومت آنے کے بعد کم ہوئی اور وہ مختلف حوالوں سے الیکشن ملتوی کرنے کی باتیں کر رہے ہیں ، کبھی وہ جنوری میں سرد موسم کا حوالہ دیتے ہیں تو کبھی کہتے ہیں آپ کو الیکشن کی فکر ہے یہاں ریاست ڈوب رہی ہے ، مولانا صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ پی ڈی ایم حکومت کے سربراہ شہبازشریف روزانہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ن لیگ اور پی ڈی ایم جماعتوں نے ریاست بچانے کیلئے اپنی سیاست کو ڈبویا لہذا مولانا صاحب دوسرا بیانیہ نہ بنائیں اور الیکشن ملتوی کرنے کے جواز مہیا نہ کریں ، آج تو مولانا نے عمران خان کی بھی حمایت کردی ہے اور یہ کہہ دیا کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اور میں جلسے کروں ، میرے مخالف کو جیل سے باہر آنا چاہیے پھر مزہ آئے گا ، مولانا صاحب نے یہ بات طنز اور مذاق میں کہی ہے لیکن اگر حقیقت میں عمران خان جیل سے باہر آگئے تو پھر پی ڈی ایم جماعتوں کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ وہ پلڈاٹ کے حالیہ سروے سے واضح ہوجاتا ہے ،عمران خان کی الیکشن سے پہلے جیل سے باہر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے ،اگر مولانا صاحب کو عمران خان سے کوئی ہمدردی ہورہی ہے تو انہیں چاہیے کہ جہاں عمران خان کی سفارش کرنی ہے وہاں بات کریں ، طنز اور مذاق ان کو زیب نہیں دیتا، ویسے مولانا فضل الرحمان کی طرف سے الیکشن آگے کرنے کی باتوں سے بلاول بھٹو بھی اتفاق نہیں کررہے اور نہ ہی اس معاملے میں ن لیگ ان کے ساتھ ہے ،الیکشن جنوری کے آخر میں ہی ہونے چاہیئں اور نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد تو ن لیگ کو الیکشن میں فائدہ ہوگا اور مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کتنی نشستیں لیں گے ،2018سے زیادہ یا کم؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا،مولانا صاحب ایک زیرک سیاستدان ہیں اور انہوں نے 2018کے انتخابات کے بعد صحیح معنوں میں عوامی اپوزیشن لیڈر ہونے کا ثبوت دیا تھا ، ایک مرتبہ اسلام آباد میں دھرنا دیا جو کامیاب ثابت ہوا اور بعد ازاں پی ڈی ایم کا اتحاد بنوا کر عمران خان کو اقتدار سے نکالنے میں اہم کردارادا کیا۔
تجزیہ









