بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نواز شریف کی تقریر عام لیڈر کی نہیں سیاسی مدبر کی ہو گی،عرفان صدیقی

اسلام آباد(ممتازنیوز )سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی تقریر عام لیڈر کی نہیں سیاسی مدبر کی ہو گی، نواز شریف کل 11اکتوبر سعودی عرب روانہ ہوں گے، چین یا قطر کا دورہ نہیں کر رہے، وطن واپسی سے پہلے دو دن کے لئے متحدہ عرب امارات جائیں گے، مہنگائی ، بےروزگاری ، غربت اور عوام کی مشکلات کا خاتمہ نواز شریف کی بڑی ترجیحات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےایک نجی ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میاںمحمد نواز شریف سعودی عرب ابھی نہیں پہنچے ۔ کل 11 اکتوبر بدھ کے دن وہ سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ سعودی عرب میں شاہی خاندان سے ملاقاتوں جیسی مصروفیات میرے علم میں نہیں ہیں۔ البتہ وہ عمرہ اداکریں گے۔ کچھ وقت اپنے بیٹے حسین کے ساتھ گزاریں گے اور زیادہ وقت ان کا مدینہ منورہ میں گزرے گا ۔ جہاں سے وہ فلائٹ لے کر انشاء اللہ روانگی سے ایک دو دن قبل متحدہ عرب امارات پہنچیں گے اور وہاں سے 21 اکتوبر کو پاکستان روانہ ہو جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر عرفان صدیقی نے بتایاکہ نواز شریف کے رابطے بہت سے ممالک سے ہیں جن میں دوست ممالک خاص طور پر شامل ہیں۔ کچھ غیر رسمی رابطے رہے ہیں اور کچھ رسمی رابطے بھی۔ پاکستان کی مشکلات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوتا رہا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے لیکن 21 اکتوبر سے پہلے ان کا چین، قطر یا کسی اور ملک کے دورے کا کوئی پروگرام نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے اور نواز شریف کی متوقع تقریر کے حوالے سے سینیٹر صدیقی نے کہا کہ (ن) لیگ نے اپنا بیانیہ تبدیل کیا ۔ ووٹ کو عزت دو کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ کو عزت دو ، پارلیمنٹ کی بالا دستی کو تسلیم کرو اور عوام کا حق رائے دہی تسلیم کرو۔ میاں صاحب ان اصولوں پر سختی سے قائم ہیں۔ وہ آج بھی پارلیمنٹ کی بالا دستی چاہتے ہیں۔ وہ آج بھی ووٹ کی عزت چاہتے ہیںیہی تو ان کا جھگڑا تھا اس لئے تو انہوں نے گیارہ سال کی جلاوطنی کاٹی ۔ اسی کی انہوں نے سزا کاٹی ۔ اس لئے ان کا بیانیہ اپنی جگہ موجود ہے۔ نواز شریف کی متوقع تقریر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہاکہ عوامی مسائل، مہنگائی ، بے روزگاری ،غربت اور لوگوں کی مشکلات ان کے بیانیہ کے بنیادی اجزا اور ترجیحات ہں گی کیونکہ وہ لندن میں اپنے ملاقاتیوں سے باربار انہی باتوں کا ذکر کرتے ہیں تاہم میاں صاحب کی تقریر کسی عام لیڈر کی نہیں ایک سیاسی مدبر کی تقریر ہو گی۔ وہ قوم کو مستقبل کا لائحہ عمل کے حوالے سے اہم تجاویز دیں گے۔