بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئے صوبے، فیصلہ پارلیمنٹ کا، حکومت ریفرنڈم کا فیصلہ خود نہیں کر سکتی، ثناءاللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت ریفرنڈم کا فیصلہ خود سے نہیں کر سکتی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے اندر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، معاملہ جب پارلیمنٹ میں آئے گا تو (ن) لیگ پالیسی بیان دے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے صوبوں کے معاملے پر زیادہ ری ایکشن دیا، صوبے بنانے سے متعلق معاملات صحیح جگہ سے شروع نہیں ہوئے۔ ابھی تک وفاقی کابینہ میں صوبوں کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر نے اکنامک فورم پر بحث چھیڑ کر غلط کیا۔ وفاقی وزیر نے معاملہ کابینہ میں نہیں اٹھایا۔

رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ صوبوں سے متعلق بات فورمز اور تقاریرسے آگے نہیں بڑھے گی، عوام کی خواہش ہو تو نئے صوبے بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں نئے صوبوں سے متعلق پارلیمنٹ میں بحث ہو سکتی ہے، نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، صوبوں سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیر داخلہ کی تقاریر بیانات اور فورمز پر بات کرنے سے کوئی بہتری نہیں آئی، یہ بات پارلیمنٹ میں ہی ہونی چاہیے تھی، جب یہ بحث پارلیمنٹ میں آئے گی تو تمام پارٹیاں اپنا موقف دیں گی، نئے صوبوں سے متعلق ن لیگ کے مؤقف پر بات چیت جاری ہے، ن لیگ بحث میں حصہ بھی لے گی، وزیراعظم اس پر بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان آزاد کشمیر الیکشن کے دوران پیدا ہونے والی تلخی میں کافی کمی آ چکی ہے اور باہمی تحفظات دور کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

مزید پڑھیں:ن لیگی ریلی کیس، وزراء سمیت 51 رہنمائوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی الیکشن کا ارادہ رکھتی ہے۔