اسلام آباد(سپورٹس ڈیسک)سوئنگ کے سلطان اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم نے میچ کے دوران کریمپس پڑنے سے متعلق بتایا کہ یہ بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔
گزشتہ روز پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ میں پاکستانی اننگز کے دوران رضوان کو کریمپس (رگوں میں کھنچاؤ) پڑنا شروع ہوا، اس کا آغاز اس وقت ہوا جب رضوان نے دوران بیٹنگ ایک گیند کو اچھل کر کھیلنا چاہا، اس کے بعد وہ گرگئے اور انہیں ٹانگ کی رگیں کھنچتی محسوس ہوئیں تاہم اس کے باوجود بیٹر کریز پر جمے رہے اور بیٹنگ کرتے رہے یہاں تک کہ سنچری اسکور کی اور پاکستانی ٹیم کو فتح دلائی۔
رضوان کے کریمپس پڑنے کے باوجود شاندار اننگز کھیلنے پر نجی ٹی وی کے شو میں سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے کہاکہ میں شائقین کرکٹ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کھیل کے دوران کسی کھلاڑی کو کریمپ پڑنا بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، اگر کسی کھلاڑی کو پتہ چل جائے کہ میری ٹانگ میں کریمپ پڑ رہا ہے اور جب میں ہٹ مارنے جاؤں گا تو مجھے تکلیف ہوگی ایسی صورتحال میں کسی بھی کھلاڑی کی 70 فیصد توجہ کریمپ میں اور 30 فیصد توجہ میچ پر چلی جاتی ہے۔
وسیم اکرم نے اپنے دور کرکٹ سے متعلق بتایا کہ جب ہم کھیلتے تھے اور ہمیں کریمپ پڑتے تھے تو چونکہ اس وقت زیادہ سہولیات نہیں ہوتی تھیں، فزیو بھی نہیں ہوتا تھا لہٰذا ہمیں کہا جاتا تھا کہ پانی میں نمک ڈال کر پی لو یہ تو بعد میں پتا چلا کہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ اس سے جسم ڈی ہائیڈریٹ ہو جاتا ہے لیکن یہ بات ہمیں ریٹائر ہونے کے بعد پتہ چلی۔
وسیم اکرم نے کہا کہ اگر 80 رنز کرنے کے باوجود بھی کسی کھلاڑی کو کریمپ پڑ جائے تو 80 رنز بھول کر اپنے درد میں پڑ جاتا ہے، اس دوران آسان عمل کھلاڑی کی ڈریسنگ روم واپسی ہے لیکن رضوان نے اس میچ میں یہ بھی نہیں دیکھا اسے کریمپس پڑ رہے تھے اور وہ رنز کر رہا تھا، یہ صورتحال واضح کررہی تھی کہ انھیں جیتنے کی کتنی لگن تھی۔
پاکستان کے ڈریسنگ روم میں کوئی ایسی چیز آگئی ہے جس سے کریمپس فوراً چلے جاتے ہیں: شعیب ملک
سابق کپتان شعیب ملک کا کہنا تھاکہ اچھی چیز یہ ہے کہ کریمپ فوراًچلے بھی گئے اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کےڈریسنگ روم میں کوئی ایسی چیز آگئی ہے جس سے کریمپس فوراً چلے جاتے ہیں۔
میزبان کی جانب سے وضاحت طلب کرنے پر شعیب ملک نے تھوڑا ہنستے ہوئے بتایا کہ میرا مطلب ہے کہ ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں کو کوئی ایسا جیل یا جوس دیا جا رہا ہے ہے جس کے استعمال کے بعد درد فوراً چلا جاتا ہے۔








