بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اٹارنی جنرل صاحب آپ غیرمعمولی بات کررہے ہیں،آپ میری دلیل تو سمجھیں، جسٹس منیب اختر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس میں جسٹس منیب اختر نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب آپ غیرمعمولی بات کررہے ہیں،آپ میری دلیل تو سمجھیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ آپ کی بات سمجھ گیا ہوں لیکن پھر بھی آپ کہہ دیں،ایگزیکٹو اور پارلیمان کے رولز قانون کا درجہ رکھتے ہیں،رولز قانون ہوتے ہیں لیکن یہ آرٹیکل 191میں استعمال شدہ لفظ قانون نہیں کہلائیں گے۔

نجی ٹی وی چینل کے مطابق  دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ نے بحث کسی اور بنیاد پر شروع کی تھی،اگر آپ اپنے دلائل ہی جاری رکھتے تو یہ مشکل کھڑی نہ ہوتی،کچھ سوالات کے ہاں یا ناں میں جواب دینا مشکل ہوتا ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آپ کے مطابق رولز عام طور پر قانون ہوتے ہیں تو عدالت لفظ قانون کی تشریح کس اصول پر تشریح گی؟

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ رولز کے بعد قانون سازی نہیں ہوسکتی تو کوئی سن سیٹ کلاز ہونی چاہئے تھی، رولز بننے کے بعد قانون سازی نہیں ہو سکتی تو آرٹیکل 191میں لا کے لفظ کا کیا مطلب ہے؟جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیاکہ رولز بننے کے بعد یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سےرولز کو ٹرمپ کیا جاسکتا ہے؟کیا رولز بننے کے بعد ان کو ایکٹ آف پارلیمنٹ سے بے کار کیا جا سکتا ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ موجودہ کیس آرٹیکل 191کا ہے تو تشریح اس کے تناظر میں ہی ہوگی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ قانون کی جتنی مرضی اقسام ہوں ایکٹ آف پارلیمنٹ آگیا تو بات ختم، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ پارلیمنٹ بھی ایکٹ بنا سکتی اور رولز بھی بنائے جا سکتے تو متصادم قوانین ہو سکتے ہیں؟جسٹس مظاہر نقوی نے کہاکہ آپ کی دلیل مان لیں تو بتا دیں آرٹیکل 191کا مقصد کیا تھا؟