فلسطین اوراسرائیل کی جنگ کے حوالے سے اب تک بہت سے ممالک کے شوبزاوربزنس سے متعلق افراد نے فلسطین کی حمایت میں اپنے سوشل میڈیا پوسٹ پر بیان جاری کیے ہیں اور جسکی وجہ سے جہاں کچھ کو پذیرائی ملی تو ان میں سے بہت سے افراد پر اسکا منفی اثر بھی پڑا۔
ہالینڈ فٹ بالرانورالغازی کو بھی جرمنی کے فٹبال کلب نے اس وقت معطل کردیا جب انھوں نے فلسطین کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرانکی حمایت کی۔
فٹ بالر انور الغازی کو ان کے جرمن کلب مینز 05 نے فلسطینیوں کی حمایت میں پوسٹ کرنے پر معطل کر دیا ہے جسے کلب نے ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
Mainz 05 suspend Anwar El Ghazi. pic.twitter.com/44m5HjtBOn
— Mainz 05 English (@Mainz05en) October 17, 2023
مراکشی نژاد اور دو مرتبہ ہالینڈ کی نمائندگی کرنے والے الغازی نے ستمبر کے آخر میں مینز 05 کے لیے معاہدہ کیا تھا اور اس سے قبل وہ ہالینڈ کے بڑے کلبوں ’پی ایس وی آئندیون اور اجیکس‘ کے علاوہ پریمیئر لیگ کے کلبوں ’ایسٹن ولا اور ایورٹن‘ کی جانب سے بھی کھیل چکے ہیں۔
the profound pain the Palestinians have endured. Glossing over the details would be a disservice to the countless souls affected over the last 70+ years. Let's commit to learning, understanding, and seeking solutions grounded in knowledge, truth and justice for all. (4/4)
— Anwar El Ghazi (@elghazi1995) October 12, 2023
فٹ بالر نے ایک پیغام پوسٹ کیا تھا جس کے اختتام پر ”فلسطین آزاد ہوگا“ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا تھا۔
as the communities who are affected by this situation.
Every individual, be it in Palestine or elsewhere, has the right to security, a loving home, and opportunities to grow.
I'm calling for more empathy, deepening our knowledge about the history of this conflict is vital (2/4)— Anwar El Ghazi (@elghazi1995) October 12, 2023
کلب نے اس فلسطینی پوسٹ کو کلب کے اقتدار کے خلاف قرار دیا ہے۔
before we hate and slander all those who have spoken about the injustices in Palestine.
None of us, myself included, cherish the thought of war or the heartbreaking loss of innocent lives.
Before passing judgment on me or any stance, I urge everyone to try and grasp (3/4)— Anwar El Ghazi (@elghazi1995) October 12, 2023
جرمنی میں فلسطینیوں اور ان کے حامیوں نے ملک میں فلسطینیوں کے حق میں اظہار رائے پر پابندی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے اور وہاں فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔








