آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے 18 ویں میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 62 رنز سے شکست دے دی ہے۔
پاکستان نے 9وکٹوں کے نقصان پر 45 اوورز میں 301 رنز بنائے ہیں۔ وکٹ پر شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف موجود ہیں۔
جمعے کو بنگلورو میں گرین شرٹس کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو ان کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا اور آسٹریلیا نے مقررہ 50 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 367 رنز بنائے۔
ڈیوڈ وارنر نے 163 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ مچل مارش 121 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے پانچ اور حارث رؤف نے تین وکٹیں حاصل کیں۔
پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے امام الحق اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا پراعتماد آغاز کیا۔ دونوں بیٹرز نے کئی عمدہ باؤنڈریز لگائیں لیکن پاکستانی اوپنرز کا پاور پلے میں چھکا نہ مارنے کا ریکارڈ برقرار رہا۔
پاکستانی اوپنرز جس اعتماد سے کھیل رہے تھے یوں گماں ہو رہا تھا کہ دونوں سینچریاں سکور کریں گے۔ لیکن امام الحق کے ساتھ 134 رنز کی شراکت داری قائم کرنے کے بعد عبداللہ شفیق اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ انہیں مارکس سٹوئنس نے آؤٹ کیا۔ عبداللہ نے 61 گیندوں پر سات چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 64 رنز بنائے۔
کچھ ہی اوورز بعد امام الحق بھی 71 گیندوں پر 70 رنز بنا کر سٹوئنس کی گیند پر مچل سٹارک کو کیچ تھما بیٹھے۔
کپتان بابر اعظم جو اس ٹورنامنٹ میں ابھی تک کوئی قابل ذکر اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس اہم میچ میں بھی کچھ خاص نہ کر سکے اور صرف 18 رنز بنا کر ایڈم زمپا کی ایک پچھلی گیند پر باؤنڈری لگانے کی کوشش میں پیٹ کمنز کو کیچ دے بیٹھے۔
بابر کے آؤٹ ہونے کے بعد سعود شکیل میدان میں آئے اور رضوان کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھایا۔ دونوں کھلاڑی جہاں سٹرائیک روٹیٹ کرتے رہے وہیں تقریباً ہر اوور میں ایک باؤنڈری لگا کر رن ریٹ زیادہ اوپر نہیں جانے دے رہے تھے۔ سعود اور محمد رضوان کے درمیان 57 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی پر سعود شکیل نے بھی اوپنرز والی غلطی دہرائی اور سیٹ ہونے کے بعد پیٹ کمنز کو اپنی وکٹ دے بیٹھے۔
پانچویں نمبر پر آنے والے افتخار احمد نے جارحانہ انداز اپنایا اور آسٹریلوی بولرز کو تین چھکے لگائے۔ ایسے میں ایڈم زمپا واپس بولنگ کے لیے آئے اور اپنی ٹیم کو افتخار کی وکٹ کی شکل میں بڑا تحفہ دیا۔
محمد رضوان جو کافی دیر سے وکٹ پر موجود تھے اور پاکستان کی آخری امید بھی تھے، اس میچ میں بھی گذشتہ میچ کی طرح اپنی نصف سینچری مکمل نہ کر سکے اور ٹیم کی کشتی کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر ایڈم زمپا کا شکار بنے۔ انہوں نے پانچ چوکوں کی مدد سے 46 رنز بنائے۔
اسامہ میر اس میچ ہر طرح سے ناکام رہے۔ فیلڈنگ، بولنگ اور آخر میں بیٹنگ میں بھی ناکامی ان کا مقدر رہی۔ وہ صفر پر ہیزل ووڈ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
زمپا کی عمدہ بولنگ نے پاکستانی بیٹرز کو پریشان کیے رکھا اور محمد نواز انہیں چھکا لگانے کی کوشش میں 14 رنز بنا کر سٹیمپ آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کے نویں آؤٹ ہوئے والے کھلاڑی حسن علی تھے وہ آٹھ رنز بنا کر مچل سٹاک کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
آسٹریلیا کی اننگز
آسٹریلیا کی جانب سے ڈیوڈ وارنر اور مچل مارش نے اننگز کا آغاز کیا۔ ابتدائی اوورز میں ہی شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر اسامہ میر نے ڈیوڈ وارنر کا کیچ چھوڑ دیا جو ان کے ساتھ ساتھ ٹیم کے لیے نہایت مہنگا ثابت ہوا۔
وارنر کو نئی زندگی ملی تو پھر انہوں نے کوئی چانس نہ لیا اور مچل مارش کے ساتھ مل کر پاکستانی بولنگ لائن کے بخیے ادھیڑ دیے۔ دونوں نے چوکوں چھکوں کی بارش کر کے گرین شرٹس کو دیوار سے لگائے رکھا۔ لیکن پھر 34 ویں اوور میں پاکستان کو پہلا بریک تھرو ملا اور مچل مارش 108 گیندوں پر 121 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر شاہین شاہ آفریدی کی کیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور نو چھکے شامل تھے۔ ان کی ڈیوڈ وارنر کے ساتھ 259 رنز کی شراکت داری بنی۔
شاہین جو کافی میچز کے بعد آج اچھی بولنگ کر رہے تھے انہوں نے ون ڈاؤن آنے والے گلن میکسول کو صفر پر ہی پویلین روانہ کر دیا۔
آسٹریلیا کی ایک ساتھ دو وکٹیں تو گر گئیں تھیں لیکن وارنر کا بلا رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ان کا پاکستانی بولرز پر لاٹھی چارج جاری رہا۔ 39 ویں اوور میں اسامہ میر نے سٹیو سمتھ کو سات رنز پر کیچ آؤٹ کر دیا۔ جبکہ 43 ویں اوور میں ڈیوڈ وارنز کی بہترین اننگز کو بھی بریک لگا اور وہ حارث رؤف کی گیند پر باونڈری پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 124 گیندوں پر 14 چوکوں اور نو چھکوں کی مدد سے 163 رنز بنائے۔
اسی طرح پاکستان نے پانچویں وکٹ جوش انگلس کی حاصل کی جو حارث رؤف کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے۔
ایک مرحلے پر لگ رہا تھا کہ شاید آسٹریلیا آج چار سو زیادہ رنز بنا لے گا لیکن آخری اوورز میں پاکستانی بولرز نے نہایت عمدہ بولنگ کی اور پانچ اوور میں صرف 27 رنز دیے۔ آسٹریلوی کھلاڑی بڑے شارٹس کی کوششوں میں وکٹیں گنواتے رہے۔
مارکس سٹونس 21 رنز بنا کر شاہین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ مارنس لبوشین صرف آٹھ رنز ہی بنا پائے اور حارث رؤف کی گیند پر کیچ تھما دیا۔ مچل سٹارک اور جوش ہیزل ووڈ شاہین شاہ آفریدی کا شکار بنے۔
آسٹریلوی بیٹرز نے مجموعی طور پر 152 ڈاٹ بالز کھیلیں لیکن انہوں نے 29 چوکے اور 19 چھکے بھی لگائے۔ پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے آٹھ اوورز میں 83 جبکہ اسامہ میر نے نو اوورز میں 82 رنز دیے۔
خیال رہے کہ یہ دونوں ٹیمیں میگا ایونٹ میں اپنا چوتھا میچ کھیل رہی ہیں۔
اس سے قبل پاکستان نے اس ورلڈ کپ میں تین میچ کھیلے جس میں دو میں کامیابی اور ایک میں شکست ہوئی جبکہ آسٹریلیا کو دو میچوں میں شکست اور ایک میں فتح حاصل ہوئی۔
آسٹریلیا کے خلاف میچ کے لیے پاکستان نے ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے جس کے باعث شاداب خان کی جگہ اسامہ میر کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے جبکہ آسٹریلیا نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
اگر پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے ورلڈ کپ میں میچوں کو دیکھا جائے تو دونوں ٹیمیں اب تک 10 میچ کھیل چکی ہیں جس میں چھ مرتبہ آسٹریلیا اور چار مرتبہ پاکستان نے جیت حاصل کی۔
اسی طرح اگر دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے مقابلوں کی تاریخ کی بات کی جائے تو اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان 107 میچ ہو چکے ہیں جس میں 34 میچ گرین شرٹس نے اور 69 میچ کینگروز نے جیتے ہیں۔
ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے پاکستان کو 62 رنز سے شکست دےدی







