بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں زہر دینے کا الزام غیر ذمہ دارا، انہیں نگراں حکومت نے گرفتار کیا  نہ شاہی فرمان کے ذریعے رہا کر سکتے ہیں، انوار الحق کاکڑ

اسلام آباد(ممتازنیوز) نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہاہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو جیل میں زہر دینے کا الزام غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انہیں نہ نگراں حکومت نے گرفتار کیا اور نہ شاہی فرمان کے ذریعے ان کو رہا کر سکتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں مکمل محفوظ اور ہماری ذمہ داری ہيں۔۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ ہماری ترجیح ہے کہ جلداز جلد الیکشن ہوں،ہم چاہتے ہیں کہ عوام اپنے مینڈیٹ کا استعمال کرتے ہوئے لوگو ں کو مینڈیٹ دیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایک الیکٹٹڈ حکومت آئے اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایساکونسا کا م کیا ہے کہ تاثردیا جارہاہے کہ ہم کسی فریق سے متعلق جانبدار ہیں۔ انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ کیا نگران حکومت نے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈالا۔ نگران حکومت آںے سے پہلے ان کی گرفتاری ہوئی ہے۔ قانونی طور پر ان کی گرفتاری ہوئی اور تمام الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ حکومتیں کوئی کریمنل گروہ نہیں، الزامات لگانے والے دس بار سوچیں ۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی جسمانی طور پر جیل مں بالکل محفوط ہیں ۔ ہماری قانونی ذمہ داری ہے کہ ان کا تحفظ یقینی بنائیں، قانوں ان کو کسی سزا کا مستحق ٹھہراتا ہے تو قانونی پیمانے کے اندر سزادی جائے گی۔ یہاں کوئی اذیت والے لوگ نہیں کہ ذاتی بدلہ لیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ دیگر جماعتیں اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ پی ٹی آئی لیڈر بھی اپنے علاقوں میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔نگراں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اپنے آپ کو ووٹر کے سامنے مظلوم قرار دینا کسی بھی جماعت کا بیانیہ ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے پیپلز پارٹی بھی اپنے ووٹرز  کے لیے اس قسم کی گفتگو کرے۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ قابل برداشت نہیں کہ افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف کارروائیاں کی جائیں اور افغان طالبان تماشا دیکھتے رہیں۔ افغان طالبان اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لوگ پاکستان کے خلاف کہاں سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی وسطی ایشیائی ریاستوں میں نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود ہے، دو سال قبل جو مذاکرات کا ڈھونگ رچایا گیا تھا، تو ٹی ٹی پی کے لوگ کابل میں عملی طور پر ان مذاکرات میں شریک تھے۔  انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اب یہ فیصلہ افغان طالبان کو کرنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو ہمارے حوالے کرنا ہے یا ان کے خلاف خود کارروائی کرنی ہے، یہ بات قابل برداشت نہیں کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جائیں اور افغان طالبان تماشا دیکھتے رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مکاتب فکر کے علماء نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں ٹی ٹی پی سے متعلق موجودہ حکومتی پالیسی کی حمایت کی ہے۔