اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سی پیک اتھارٹی کے مطابق پاکستان گوادر میں صرف تین منصوبے مکمل کرسکاجس کی مالیت تین سوملین ڈالرسے زیادہ ہے سی پیک اتھارٹی کاکہناہے کہ پانی اوربجلی کے منصوبوں سمیت تقریباً2بلین ڈالرکی درجن بھراسکیمیں نامکمل ہیں ،سی پیک کاگیٹ وے اورسی پیک کازیور کہلانے والے گوادر میں شروع کیے جانیوالے منصوبوں کی پیش رفت کاجائزہ لیاگیاتوانکشاف ہواکہ شہرکے سماجی واقتصادی فوائد والی تمام سکیمیں اپنی تکمیل کی مدت سے بہت پیچھے ہیں ،
سی پیک اتھارٹی جسے نئے وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال ختم کر ناچاہتے ہیں ،نے گزشتہ ماہ تمام منصوبوں کی اپ ڈیٹ رپورٹ نئی حکومت کودی ہے تاحال اتھارٹی کی جانب سے صرف تین اسکیمیں مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا ہے ، جن میں 4ملین ڈالر کا گوادرسمارٹ پورٹ سٹی ،ماسٹر پلان بھی شامل ہے ، جسے کوئی منصوبہ نہیں کہا جا سکتا ،دیگردواسکیموں میں گوادر پورٹ کا فریکل انفراسٹرکچر اور فری زون فیز 1 ہے جس کی لاگت 300 ملین ڈالر ہے ، دوسری پاک چائناٹیکنیکل اینڈووکیشنل انسٹی ٹیوٹ جو 10 ملین ڈالر چینی گرانٹ سے بنایا گیا ہے ،
یہاں تک کہ بندر گاہ کے لیے بجلی کا کوئی مقامی بندوبست بھی نہیں ہے۔ کیونکہ گہری بندر گاہ والے شہر گوادر کی توانائی کی ضروریات کو پورا کر نے کے لیے ایران سےبجلی در آمد کی جاتی ہے ، پی ٹی آئی دور حکومت میں سی پیک منصوبے زیادہ تر غیر فعال رہے تاہم خالد منصور کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے سی پیک امور بنائے جانے پر کچھ پیش رفت ہوئی تھی ، اس کے باوجود وہ ند کورہ اسکیموں کو یا۔ تکمیل تک نہ پہنچاسکے۔









