آئس لینڈ کے جزیرہ نما ”ریکیجینز“ میں گزشتہ ہفتوں سے جاری سیکڑوں زلزلوں کے بعد بالآخر آتش فشاں پھٹ گیا۔ جس کے نتیجے میں اٹھنے والی راکھ نے آسمان کو ڈھک دیا۔ آتش فشاں پھٹنے کے بعد دارالحکومت کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے چھوٹے زلزلوں کے ایک سلسلے میں سڑکوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات نے زلزلے کے جھٹکوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ماہی گیری قصبے گرینڈویک کے شمال میں واقع جزیرہ نما ریکیجینز میں آتش فشاں پیر کی رات 10 بج کر 17 منٹ پر پھٹنا شروع ہوا۔
دھماکے کی لائیو اسٹریم کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نارنگی رنگ کا لاوا ابل رہا ہے اور اس کے ارد گرد سرخ دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
The first two hours of this incredible eruption in Iceland in ONE MINUTE! Watch as the lava unzips along the fissure! #volcano #Iceland pic.twitter.com/T6KJnN1sqn
— Jake Heitman (@HeitmanJake) December 19, 2023
گرنڈاویچ کے قریب رہنے والی ایک خاتون نے پیر کی رات آتش فشاں پھٹنے کے حیرت انگیز اور خوفناک مناظر بیان کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ دھویں اور راکھ کی بو آتش فشاں پھٹنے کی جگہ سے 30 کلومیٹر دور تک محسوس کی جا رہی ہے۔
کئی ہفتوں سے نارڈک ملک آئس لینڈ میں شدید زلزلوں کے بعد دارالحکومت کے جنوب مغرب میں واقع جزیرہ نما میں موجود اس آتش فشاں کے پھٹنے کی پیش گوئی کی جا رہی تھی، اور حکام ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرچکے تھے۔
Enjoy some insane drone footage of Iceland’s volcano. The drone didn’t survive, but the footage did. Skilled piloting by @airbazoo pic.twitter.com/Ck75qFvaNP
— Ethan Blagg 🤖 (@ethanblagg) December 19, 2023
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صبح 3 بجے تک آتش فشاں پھٹنے کی شدت میں استحکام آ چکا تھا تاہم یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ یہ کب تک جاری رہے گا۔
شہری تحفظ کے محکمے کے سربراہ ویدر رینیسن نے ایک مقامی ٹیلی ویژن اسٹیشن کو بتایا کہ یہ کوئی سیاحتی آتش فشاں نہیں ہے۔
پبلک یوٹیلٹی کمپنی لینڈزنیٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ آتش فشاں پھٹنے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔









