امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران غلطی سے کہہ دیا کہ امریکہ پاکستان میں ظلم اور جبر کی حمایت کرتا رہے گا۔ میتھو ملر نے نشاندہی پر فورا ہی اپنے جملے کی وضاحت کردی تاہم ان کے الفاظ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ امریکی ترجمان نے غلطی سے سچ بول دیا۔
میتھو ملر محکمہ خارجہ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ جہاں انہوں نے پاکستان میں انتخابات پر اپنی پوزیشن واضح کی۔ ان سے بعض سوالات پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بارے میں بھی کیے گئے۔
ایک صحافی نے کہاکہ پاکستان میں جس طرح انتخابی دھاندلی ہو رہی ہے اس پر امریکہ کو کچھ سخت ردعمل ظاہر کرنا چاہیے، جواب میں میتھو ملر نے کہا، ’ہم پاکستان کی ایک متحرک جمہوریت میں جمہوری جبر (supression) کی حمایت کرتے رہیں گے۔‘
ایک اور صحافی نے ترجمان کی توجہ دلائی کہ انہوں نے جمہوری جبر کا لفظ استعمال کیا ہے جس پر ملر نے کہا، ’میں نے کہا جمہوری آزادی (expression) ۔۔۔‘
State Department says the United States will continue to support democratic 'suppression' in Pakistan
Read more: https://t.co/qMFKlG8SxM #AajNews #America #Pakistan #Election2024 #MatthewMiller pic.twitter.com/TvWYgUT4t6— Aaj TV English (@AajNewsEnglish) January 5, 2024
ملر نے دو تین بار یہ لفظ دہرایا اور کہاکہ آپ غیر ضروری پر میری اصلاح کر رہے ہیں میں اس جھانسے میں نہیں آوں گا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ امریکی ترجمان کی زبان سے سچ پھسل گیا ہے۔
کئی لوگوں نے فرائیڈین سلپ کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق بعض اوقات انسان غلطی سے وہ کہہ جاتا ہے جو اس کے ذہن میں کہیں ہوتا ہے۔
A possible Freudian slip by @StateDeptSpox in response to @RyanGrim's question on Pakistan's brutal anti-democratic crackdown.
"We will continue to support democratic suppression"
"I said expression, expression," he quickly clarifies to @APDiploWriter. pic.twitter.com/tgPsc4mYCV
— Erik Sperling 🌍 (@ErikSperling) January 4, 2024









