بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نواز شریف کے طلب کرنے پر شہباز شریف سمیت اعلیٰ (ن) لیگی قیادت کل لندن پہنچے گی ،اہم فیصلے متوقع

اسلام آباد(محمداکرم عابد)مسلم لیگ( ن) کے قائد نواز شریف کے طلب کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ (ن) لیگی قیادت کل لندن پہنچے گی، نواز شریف نے( ن) لیگ کی سربراہی میں بننے والی اتحادی حکومت کو درپیش سنگین سیاسی ،معاشی مسائل اور اس سے (ن) لیگ کی مقبولیت کو لاحق خطرات کی وجہ سے وزیراعظم سمیت سینئر قیادت کو ہنگامی طور پر لندن طلب کیا ۔(ن) لیگ کے ذرائع کے مطابق نواز شریف سینئر پارٹی قیادت سے فوری انتخابات کے انعقاد سمیت انتہائی اہم ایشو زپر صلاح مشورہ کریں گے ۔اسی وجہ سے نواز شریف نے ویڈیو لنک پر بات چیت کی تجویز کو مسترد کردیا کیونکہ اس سے گفتگو کو ٹیپ کیے جانے کا بھی خطرہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق (ن) لیگ میں اس وقت عمران حکومت کے خلاف تحریک عد اعتماد کی کامیابی کے بعد اقتدار میں آنے کے معاملے پر دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک گروپ جس میں شاہد خاقان عباسی اور زبیر عمر جیسے رہنما شامل ہیں وہ ان مشکل حالات میں( ن) لیگ کے حکومت میں آنے کے حق میں نہیں تھے ان کے مطابق موجودہ مشکل حالات میں (ن) لیگی وزیراعظم کی قیادت میں بننے والی حکومت کا سارا بوجھ (ن) لیگ کے کندھوں پر ہوگا، تمام مشکل فیصلوں کے نقصانات صر ف اور صرف (ن) لیگ کو ہی پہنچیں گے جب کہ پی پی اور جے یو آئی سمیت تمام اتحادی جماعتیں اقتدار کے مزے لوٹیں گی۔ذرائع کے مطابق (ن) لیگ کی قیادت کوآئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی شرائط پر عملدرآمدخاص طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اگر وہ مشکل معاشی فیصلے کرتی ہے تو اس سے پارٹی کی عوام میں مقبولیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی سے گزشتہ روز ہونے والی ملاقات ،جس میں شاہد خاقان عباسی نے انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کر تے ہوئے بتایا کہ اگر فوری طور پر عین فیصلے نہ کیے گئے تو پارٹی کو تباہ کن نقصان ہوسکتا ہے پر ہنگامی طور پر شہباز شریف سمیت سینئر رہنمائوں کو لندن طلب کرلیا ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور سینئر رہنما منگل اور بدھ کی درمیانی رات لندن روانہ ہوں گے اور لندن پہنچنے پر وہ چند گھنٹے آرام کے بعد تین بجے حسین نواز کے دفتر میںنواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ دریں اثناء ذرائع کا کہنا ہےکہ اتحادی جماعتوں میں پاور شیئرنگ اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر اختلاف پائے جاتے ہیں،اسی طرح خیبر پختونخوا میں گورنر کے عہدے کے حصول کیلئے بھی حکومتی اتحاد میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور تینوں بڑی جماعتیں اس عہدے کی خواہشمند ہیں ۔ذرائع کے مطابق شہبازشریف نوازشریف کو اتحادیوں کے بڑھتے ہوئے ان مطالبات کے بارے میں بھی آگاہ کریں گے جس سے اہم فیصلوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز نوازشریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اوردیگرافراد نوازشریف سے مشاورت کیلئے لندن آرہے ہیں، نوازشریف نے شہبازشریف اور دیگرکوطلب نہیں کیا بلکہ شہبازشریف اوردیگر نے نوازشریف سے مشاورت کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں پیرکی صبح لندن پہنچا تھا پورا دن نوازشریف کے ساتھ رہا، عدم اعتماد کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت ہٹانے پرنوازشریف کومبارک باد دی۔