بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

الیکشن کمیشن کے دوٹوک موقف سے الیکشن التواکاپلان ٹھس

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں چالاکی اور پر اسراریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 14 ارکان کی موجودگی میں 8 فروری کے الیکشن ملتوی کرنے کے لیے منظورکرائی گئی قراردادکویکسرمستردکرتے ہوئے دوٹوک اور واضح طور پرجواب دے دیا ہے کہ الیکشن ہر صورت 8فروری کو ہوں گے، جو بہت خوش آئند بات ہے، جس دن یہ قرارداد منظورکرائی گئی تھی ہم نے اپنی تحریرمیں واضح کردیاتھا کہ ایسی قراردادکی کوئی آئینی حیثیت نہیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن پر یہ لازم ہے کہ وہ بہت کم تعدادمیں ارکان کی ایوان میں بھونڈے انداز میں منظور کی گئی قرارداد پر عملدرآمدکرے،پیر کو الیکشن کمیشن نے تحریری طور پر سینیٹ سیکرٹریٹ کو آگاہ کردیاہے کہ الیکشن ملتوی نہیں ہوسکتے، دوسری جانب قرارداد کے محرک سینیٹر دلاورخان نے ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ کر اپنا موقف دہرایا ہے اور کہاہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے قراردادپر عملدرآمدنہ کرنا باعث تشویش اور ایوان کی توہین ہے،دلاورخان ،آپ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے قرارداد پر عملدرآمد نہ کرکے  ایوان کی توہین کی ،ایوان کی توہین تو آپ نے خود کی جب صرف 14 ارکان میں موجود تھے اور قرارداد منظور کرالی گئی حالانکہ الیکشن کا فیصلہ سپریم کورٹ نے ای سی پی اور صدرمملکت کے درمیان مشاور ت کے ذریعے طے پانے والی تاریخ کے مطابق کیا ،باپ پارٹی اور چند آزادارکان کس کی گیم کھیلناچاہتے تھے یہ تو واضح ہے لیکن یہ گیم کامیاب نہیں ہوسکی ،پاکستان میں جب بھی سینیٹ کے الیکشن ہوتے ہیں تو اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں ،سینیٹ کے انتخابات کا طریقہ کار بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ کرپشن کا یہ سلسلہ رک سکے اور جن لوگوںپر ناجائز ذرائع سے دولت کمانے کاالزام ہوتا ہے وہی سینیٹ میں ووٹ خرید کرمنتخب ہوجاتے ہیں ،جان محمد جمالی ،ڈپٹی چیئرمین کے طورپر یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات صوبائی ممبر ان کے بجائے عوام سے براہ راست ووٹ کے ذریعے کرائے جائیں تاکہ کرپشن کا سللسہ رک سکے اور حقیقی نمائندے ایوان میں آئیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی حکومت قانون سازی کرے اور آئین میں ترمیم کی جائے،دوسری جانب مسلم لیگ ن نے بالآخر انتخابی مہم شروع کردی ہے،چیف آرگنائزر مریم نواز کا اوکاڑ ہ میں ایک بڑا انتخابی جلسہ منعقدکیاگیا جس میں اوکاڑہ سے ہزاروں افراد نے شرکت کی،سٹیڈیم بھرا ہواتھا اور آس پاس کی سڑکوں پر بھی ہزاروں لوگ موجود تھے ،مقامی قیادت نے بڑی محنت سے عوام کو جمع کیا،مریم نواز نے اپنی تقریرمیں عمران خان کا نام لئے بغیر انہیں تنقید کانشانہ بنایااور پی ٹی آئی کو دہشت گرد تنظیم تک کہہ دیا،مریم نوازنے یہ بھی کہاکہ اب تو ساس کے ٹیلی فون پر فیصلے نہیں ہوتے ،ساس کا حوالہ دے کرانہوں نے سابق چیف جسٹس عطابندیال کو تنقید کا نشانہ بنایا،پارٹی کے کسی تفصیلی منشور کا کوئی ذکر نہیں کیاالبتہ سولر پینل عوام کو کم نرخوں پر دینے کی خوشخبری ضرورسنائی،سوئی گیس کی فراہمی کا بھی ذکر کیا،مریم نواز کی تقریر کا زیادہ تر حصہ ماضی کے واقعات اور عدلیہ کے سابق ججز کی نوازشریف کے ساتھ کی گئی زیادتیوں پر محیط تھا،انہوں نے اپنی تقریرمیں کہیں بھی سابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کوئی ذکرنہیں کیااور نہ ہی سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا نام لیاحالانکہ ماضی میں وہ دونوں کے نام لے کر تنقید کرتی رہی ہیں ،بہرحال یہ ایک کامیاب سیاسی شوتھا اور ن لیگ کو سیاسی میدان میں مزید بڑے جلسے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ تاثر ختم ہوسکے کہ ن لیگ الیکشن کے لیے تیار نہیں ہے،جہاں جہاں ن لیگ کے آزادامیدوار کھڑے ہوگئے ہیں وہاں پارٹی کو مشکلات کا سامناکرناپڑسکتا ہیاس حوالے سے ن لیگ کی قیادت یقیناًرابطے کررہی ہوگی سابق وفاقی وزیرسمیرا ملک نے بھی ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی چھوڑ دی ہے۔