بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

PTI میں’’رانگ نمبر‘‘ کی اصطلاح کن رہنماؤں کیلئے استعمال ہو رہی ہے؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف میں مرکزی راہنماؤں کی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور بیانات کا سلسلہ منظرعام پر بھی آنا شروع ہوگیا ہے۔

یہ صورتحال پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کی طرف ایک اشارہ ہے۔ بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بار بار اپیل کی کہ باہمی اختلاف رائے کو نہ اچھالا جائے۔

بانی چیئرمین عمران خان کی طویل گرفتاری اور تحریک انصاف کی انتخابی نتائج کے حوالے سے کارکنوں کی ناامیدی اور مایوسی کی بڑی وجہ ہیں۔

پھر سپریم کورٹ سے پارٹی کے انتخابی نشان ملنے کی واپسی کا دھچکہ، الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی اور پارٹی کے ٹکٹ سے انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی اور سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی خبروں سمیت مستقبل قریب میں عمران خان کی رہائی کی کوئی امید نظر آتی ہے اور نہ انتخابات میں کوئی ایسی کامیابی جس سے وہ پارلیمانی ایوانوں میں کوئی کردار ادا کرسکیں گے۔

شیر افضل مروت نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن چند گھنٹوں میں ہی اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ انتخابی مہم ختم کرنے کی وجہ حامد خان اور مرکزی ترجمان رؤف حسن کے بیانات تھی۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو پی ٹی آئی کے ’’ذہنی بیمار‘‘ قرار دیا تھا۔

’’رانگ نمبر‘‘ کی اصطلاح ان لوگوں کیلئے استعمال کی جارہی ہے جن کے بارے میں یہ تاثر دینا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ ہیں اور ان کیلئے مخبری کرتے ہیں۔

معروف قانون دان لطیف کھوسہ کا یہ دعوٰی ہے کہ وہ عمران خان کی خواہش پر پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے اور اب ان کا مقدمہ بھی لڑ رہے ہیں یقیناً وہ اس کے صلے کے حقدار بھی ہیں اور طلبگار بھی ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ میں اب پارٹی کا سینئر نائب صدر ہوں اور عمران خان کے بعد سب سے اہم عہدہ میرے پاس ہے اور یہ صورتحال شاہ محمود قریشی اور دوسرے سینئر رہنماؤں کیلئے ایک لمحہ فکریہ کی شکل میں سامنے آئے تھے اور اب بھی موجود ہیں۔