اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق گورنرپنجاب لیفٹیننٹ جنرل(ر)خالد مقبول نے کہاہے کہ فوج نے عملی سیاست میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت نہ کر نے کا تہیہ کر لیا ہے ،اب سیاسی فیصلے سیاسی میزپر ہی ہوں گے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول نے کہاکہ پاکستان میں سیاست دانوں کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنی کارکردگی کی بجائے کوئی ایسا موضوع یا ایسا نکتہ چن لیں جس پر لوگوں کی توجہ مبذول ہو اور وہ غیرضروری بات پر بحث چھیڑدیں، بہت سے لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ فوج پر تنقیدکرنے یا فوج کے کردار پر اعتراضات اٹھانے سے انہیں عوام میں مقبولیت حاصل ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی فوج کی سب سے بڑی حمایتی پاکستانی عوام ہیں اور جب کبھی بھی فوج کے خلاف کسی نے کوئی بے معنی اور بلاجواز نعرہ لگایا ہےاسے عوام کی طرف سے پذیرائی نہیں ملی۔خالد مقبول نے کہاکہ فوج نے واضح کردیا ہے کہ وہ اس ملک کی حفاظت،استحکام اور ترقی میں تو اپنا کردار ادا کرے لیکن سیاست میں براہ راست یا بالواسطہ کسی قسم کی مداخلت نہیں کر ے گی۔ماضی میں فوج کی سیاست میں مداخلت سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ ہر ملک کے خصوصی حالات ہوتے ہیں اورانہی حالات میں سے ادارے نکل کر اپنے آپ کو ارتقاکی طرف لے جاتے ہیں،پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار پر بہت سے لوگوں نے اداریے لکھے ،یہ ایک مسلمہ حقیقت بھی ہے جس کی تردید نہیں کی جاسکتی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں تمام سیاسی جماعتوں کا فوج سے واسطہ رہا ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ فوج کی اس وقت منظور نظر تھیں ۔انہوں نے کہاکہ فوج ایک مسلسل سوچنے اور اپنے کردار کو بہتر کرنے والا ادارہ ہے،اب فوج نے دیکھاکہ ماضی میں کئی بار ہم پر الزامات لگتے رہے ہیں باوجود اس کے کہ ہم قربانیاں دے رہے ہیںپھر بھی ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،فوج نے منظم طریقے ،سینئرکمانڈرزکی مشاورت اوردنیاکے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ عملی سیاست میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کرے گی تاہم جہاں تک ملک کی سالمیت ،استحکام ، ملک کی مفاد اور ریاست کی حمایت بات ہے تو اس میں افواج پاکستان پیچھے نہیں ہٹیں گی۔خالد مقبول نے کہاکہ فوج پر لوگوں کا اعتماد بہت زیادہ ہےاور اس پر لوگ نظر بھی رکھتے ہیں چنانچہ ہر مشکل وقت میں لوگ سمجھتے ہیں کہ اب فوج آئے اور مسئلے کو حل کرے۔انہوں نے کہاکہ سیاست سے تواب فوج دور رہے گی لیکن جب کبھی قوم کو ضرورت ہو گی پاک فوج بڑی سے بڑی ذمہ داری اور قربانی کے لئے تیار ہیں۔ ایک اور سوال پر خالد مقبول نے کہاکہ یہ فوج بیرکوں میں رہنے والی فوج نہیں ہے اس فوج نے پچھلے بیس سال میں ایسے جنگی محاذوں پر لڑائی لڑی ہےاور تقریباً دشمن کو شکست دی ہے،اس معاملے میں دنیا کی بڑی بڑی افواج ناکام ہوئی ہیں،افغانستان،لیبیا،شام ،عراق میں دنیاکی بہترین اور منظم افواج ناکام ہوئی ہیں،اس کے برعکس افواج پاکستان بہت قربانیاں دے کر اور بہت کچھ سیکھ کر کردار اداکیا ہے،اب فوج میں بہت تحمل اور بردباری آگئی ہے،فوج کوسیاست میں ملوث کرنے یا متنازع بنانے کو عوام میں پذیرائی نہیںملی ہے۔بعض سیاست دانوں کی طرف سے فوج سے الیکشن کرانے کے مطالبے سے متعلق انہوں نے کہاکہ دنیا کی بہترین جمہوریتوں میں بھی لوگ مقبول نعرے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں،پاکستان میں اس قسم کی جذباتیت والی نعرے بازی جماعتوں میں تو مقبول ہوگی لیکن افواج پاکستان کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گی ،فوج اگر دباؤ میں آئے گی تو پاکستان کی حفاظت،ترقی کے نام پر آئے گی اور کارکردگی بھی دکھائے گی ۔خالد مقبول نے کہاکہ بہت مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب سیاسی فیصلے سیاسی میزپر ہی ہوں گے،پاکستان میں قدآور سیاست دان موجود ہیں جن کے پیچھے چالیس سال کی تاریخ ہے اور وہ ہر طرح کے حالات سے گزرے ہیں ،اب عوام توقع رکھتے ہیں کہ فیصلے سیاست دان ہی کریں گے ،فوج کا صرف ایک کام ہے کہ ملک کو انتشار،غیریقینی حالات اور باہمی لڑائی سے بچانا ہے اور افواج پاکستان نے تہیہ کررکھاہے کہ پاکستان کو کسی صورت اب عدم استحکام کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی سیاسی مسئلے کا حل نکالناہے سیاست دان مل کر فیصلہ کریں ۔
فوج نے عملی سیاست میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت نہ کر نے کا تہیہ کر لیا، لیفٹیننٹ جنرل(ر)خالد مقبول








