امریکی نشریاتی ادارے کے سروے میں پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت نے فوج پر اعتماد کا اظہار کیا ۔
سروے کے نتائج کے مطابق عام تاثر کے برعکس بلوچستان میں بھی فوج پر مکمل اعتماد کرنے والوں کی شرح 64 فی صد ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے نے یہ سروے بین الاقوامی ادارے اپسوس کے ذریعے کرایا ہے جس میں 18 سے 34 برس کے نوجوانوں سے یہ سوال بھی کیا گیا تھا کہ انہیں کس قومی ادارے پر کتنا اعتماد ہے۔
نوجوانوں کی اکثریت (74 فی صد) نے فوج کو سب سے قابلِ اعتماد ادارہ قرار دیا، فوج پر اعتماد کرنے والوں کی شرح شہری اور دیہی علاقوں میں تقریباً برابر ہے جہاں ہر چار میں سے دو نوجوانوں نے فوج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
سروے کے مطابق 59 فی صد مرد جبکہ 46 فی صد خواتین فوج پر مکمل اعتماد کرتے ہیں، تقریباً 13 فی صد مردوں اور 16 فی صد خواتین نے کہا کہ انہیں فوج پر بالکل بھی اعتماد نہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سائنٹیفک سرویز کے نتائج عام تاثر سے مختلف ہو سکتے ہیں اور اکثر اوقات ان نتائج کی توجیہ زمینی حالات سے بھی کی جا سکتی ہے۔
’اپسوس‘ پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبدالستار بابر کہتے ہیں کہ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ ایک سائنٹیفک سروے کے نتائج عام تاثر یا میڈیا پر پیش کی جانے والی تصویر سے مختلف ہوں۔
ان کے بقول اس سروے کے نتائج ماضی قریب میں کیے گئے اپسوس کے دیگر سرویز سے ملتے جلتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سائنٹیفک سرویز کے نتائج عام تاثر سے مختلف ہو سکتے ہیں اور اکثر اوقات ان نتائج کی توجیہ زمینی حالات سے بھی کی جا سکتی ہے۔
’اپسوس‘ پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبدالستار بابر کہتے ہیں کہ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ ایک سائنٹیفک سروے کے نتائج عام تاثر یا میڈیا پر پیش کی جانے والی تصویر سے مختلف ہوں۔
ان کے بقول اس سروے کے نتائج ماضی قریب میں کیے گئے اپسوس کے دیگر سرویز سے ملتے جلتے ہیں۔
عبدالستار بابر نے بتایا کہ ان کے ادارے نے 2023 کے آغاز میں بھی ایک سروے کیا تھا جس میں فوج پر لوگوں کے اعتماد کی شرح 50 سے 55 فی صد تک تھی لیکن ان کے بقول گزشتہ برس دسمبر میں کیے جانے والے ایک اور سروے میں فوج پر اعتماد کی شرح 72 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔
عبدالستار بابر کا کہنا تھا کہ وی او اے کے لیے کرایا گیا سروے جنوری میں کیا گیا۔ اس سروے میں فوج پر اعتماد کرنے والے نوجوانوں کی شرح 74 فی صد سامنے آئی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ اعتماد بتدریج بڑھا ہے۔
اپسوس’ پاکستان کی سینئر ریسرچ ایگزیکٹو سیدہ نایاب سعید کہتی ہیں کہ سروے کے لیے ڈیٹا جمع کرتے وقت یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ جو جوابات مل رہے ہیں، انہیں من و عن شامل کیا جائے۔
نایاب کہتی ہیں کہ سروے میں اداروں پر اعتماد کا سوال شروع میں ہی شامل کیا گیا تھا اور یہ سوال بھی عمومی نوعیت کا تھا کہ نوجوان کس ادارے پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔
پاکستان میں مارکیٹ ریسرچ سے وابستہ ایک اور ادارے گیلپ پاکستان کے سربراہ بلال گیلانی کہتے ہیں کہ انہیں یہ رائے اس لیے حیران کن نہیں لگی کہ گیلپ کی جانب سے جون 2023 میں کرائے گئے سروے میں بھی 88 فی صد افراد نے فوج پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
اُن کے بقول جب پاکستان میں لوگوں سے فوج پر اعتماد سے متعلق براہِ راست سوال پوچھا جاتا ہے تو اُن کے ذہنوں میں فوری طور پر فوج کی سیاست میں مداخلت کا معاملہ نہیں آتا۔









