بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیراعظم سے حلف نہ لینا،صدر عارف علوی کااگلاقدم ،جوابی طورپرمتبادل لائحہ عمل تیار

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بلانے سے انکاری صدرڈاکٹرعارف علوی کے اگلے مرحلے میں نومنتخب وزیراعظم سے حلف نہ لینے کا بھی امکان ہے جس کومدنظر رکھتے ہوئے متبادل لائحہ عمل تیارکرلیاگیا۔ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی جوحالیہ انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ،وہ ابتدائی مرحلے میں اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھائیں گے اور صدرعلوی کی طرف سے ممکنہ نومنتخب وزیراعظم شہبازشریف سے حلف نہ لینے کی صورت میں بطورقائم مقام صدر صادق سنجرانی ان سے حلف لیں گے،ذرائع کاکہناہے کہ صدرعارف علوی سے حال ہی میں تحریک انصاف کے بعض رہنماوں نے ملاقاتیں کی ہیں جن میں اسمبلی اجلاس میں رکاوٹ ڈالنے سمیت دیگراقدامات کا لائحہ عمل طے ہوا جس پر اب صدر علوی عمل پیرا ہیں،آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدرعلوی کا اسمبلی اجلاس میں رکاوٹ ڈالنا یا ممکنہ طور پر نئے وزیراعظم سے حلف نہ لینا ان کے منصب کے تقاضوں کے منافی ہے،عارف علوی کی طرف سے اپنے منصب کو متنازع بنانے کایہ پہلااقدام نہیں وہ ماضی میں بھی ایسے کئی حربے استعمال کرچکے ہیں جن اسے ان کی غیرجانبداری اور صدر کے منصب کا تقدس پامال ہوا،چندروز قبل صدر علوی نے غیررسمی گفتگو کے دوران انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاتھا کہ آج پورا ملک انتخابی نتائج پر سوالات اٹھا رہا ہے جبکہ سابق پی ڈی ایم حکومت کے دور بھی صدر کا طرز عمل متنازعہ رہا، خاص طور پر سانحہ نومئی کے تناظر میں دو اہم قوانین آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بلوں پر دستخط کرنے کی بجائے فائل دبا لی اور سیکرٹری ایوان صدر پر الزام لگا دیا کہ انہوںنے احکامات کے باوجود فائل واپس وزارت قانون کو نہیں بھجوائی لیکن بعدازاں اس معاملے کی تحقیقات میں صدرعلوی کی دروغ گوئی ثابت ہوئی تھی۔دریں اثناذرائع کے مطابق ایوان صدر نے نومنتخب وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کے لیے تیاریاں شروع کررکھی ہیں،اس ضمن میں مہمانوںکی فہرستیں مرتب کی جارہی ہیں جبکہ شہازشریف اور آصف علی زرداری کے عملے سے بھی فہرستیں مانگی گئی ہیں، ایوان صدر کا پروٹوکول اور دیگر عملہ سیکرٹری کیبنٹ سے مسلسل رابطے میں ہے۔
لائحہ عمل تیار