اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ دور حکومت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات کا سلسلہ کچھ عرصہ تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد پھر بحال ہوگیا ہے ،عالمی میڈیا نےاپنی رپورٹس میں اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کی ٹیم ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدے کی کوششوں کے تحت بدھ سے کابل میں مو جود ہے،رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کے ایک سابق اعلیٰ افسر بھی اس ضمن میں مذاکرت میں شریک ہونے کے لئے پیرکو کابل پہنچ گئے۔رپورٹس کے مطابق حقانی نیٹ ورک ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کررہاہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستانی فوج نے ٹی ٹی پی کے دو کمانڈرزکو گرفتارکیا تھا جنہیں اب افغان طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے حوالے کیا جائے ۔مسلم خان اورمحمود خان کو 2009میں حراست میں لیاگیاجن کا تعلق سوات سے ہے اور انہیں حال ہی میں حقانی نیٹ کی تحویل میں دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اعلیٰ ذرائع کاکہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کا وزیرستان گروپ ابھی تک ممکنہ معاہدے سے خوش نہیں ہے کیونکہ اس معاہدے کو افغانستان میں موجود بلوچ باغیوں کے خلاف سمجھا جا سکتا ہے۔
حقانی نیٹ ورک کی ثالثی میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات بحال








