بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اپنی اکثریت کھو بیٹھے ،قانونی ماہرین 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس پر آنے والے فیصلے پر قانونی ماہرین کی اکثریت نے کہا ہے کہ اس فیصلہ کے نتیجے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اپنی اکثریت کھو بیٹھے ہیں،جب کہ بعض آئینی ماہرین کے مطابق منحرف ارکان کی رکنیت کے خاتمے کے بعد اسمبلی کی اکثریت جس پر اعتماد کا اظہار کرے گی وہی قائدایوان تصور ہوگا،دریں اثنا لاہورہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس انوار الحق نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پنجاب حکومت ختم ہوگئی ہے،تاہم میں ذاتی طور پر اس فیصلے کو درست نہیں سمجھتا،اس فیصلے سے آئین میں ترمیم کا تاثردیا گیا ہے،دوسری جانب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے کہاہےکہ یہ بہت سخت فیصلہ ہے جس میں بنیادی حقوق کو ختم کیا گیا ہے۔پاکستان بار کونسل کے رکن اشتیاق اے خان نے سپریم کورٹ کےفیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے کے بعد حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں رہے، نئےانتخابات کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا آئین کے آرٹیکل63 اےکی تشریح کا تاریخی فیصلہ ہے، ریفرنس میں منحرف رکن اسمبلی کے ووٹ کو شمار نہ کرنےکی استدعا منظور کرلی گئی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمیشہ کیلئے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ بند کر دیا، آج کےتاریخی فیصلے نے پارلیمانی نظام کی توسیع کردی، آرٹیکل 189 کے تحت انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ فیصلے پر عمل درآمد کی پابندہے۔  صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے کہاکہ یہ بہت سخت فیصلہ ہے جس میں بنیادی حقوق کو ختم کیا گیا ہے،مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا سپریم کورٹ کوئی ایسا فیصلہ یا تشریح جاری کرسکتی ہے جو بذات خود آئین سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ آئین نے جب ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تو عدالت وہ واپس کیسے لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا جو سب سے بڑا تضاد اس فیصلے کے اندر ہے کہ جب آپ نے ووٹ ڈالنے سے روک دیا تو پھر نااہلی کی سزا کس بات پر ہوگی اس ووٹ پر جو ڈالا ہی نہیں گیا۔   لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انوار الحق نے بتایا کہ اس فیصلے کے بعد پنجاب حکومت ختم ہوچکی ہے کیونکہ جب آپ نے اراکین سے ووٹ ڈالنے کا حق ہی لے لیا اور یہ کہہ دیا کہ آپ ووٹ ڈال ہی نہیں سکتے یا آپ کا ووٹ گنا ہی نہیں جاسکتا۔ اس کا واضع مطلب ہے کہ اگر پنجاب میں حکومت تحریک انصاف کے منحرف اراکین سے ملا کر بنائی گئی ہے تو ان کے ووٹ گنے ہی نہیں جائیں گے۔ کم سے کم جتنی جزئیات سپریم کورٹ کے فیصلے کی ابھی تک سامنے آئی ہیں اس کا مطلب تو یہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس فیصلے کو درست نہیں سمجھتے کیونکہ اس فیصلے سے آئین میں ترمیم کا تاثر سامنے آیا ہے۔ آئین نے ووٹ ڈالنے سے کسی کو نہیں روکا۔ بیرسٹراعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ کی رائے سب پر لازم ہوگی، پنجاب کا وزيراعلیٰ آج ختم ہوگيا ہے اب وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے نيا نام دينا پڑے گا اور اگر نیا امیدوار ووٹ نہیں لے سکے گا تو گورنر پنجاب اسمبلی تحلیل کردے گا۔انہوں نے کہا کہ وفاق میں چونکہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے شہبازشریف کو ووٹ نہیں دیا تھا تو وہ بدستور اسمبلی رکن رہیں گے مگر ان کا ووٹ ناکارہ ہوگیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا ووٹ پارٹی کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاق میں شہبازشریف حکومت دو ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تحریک انصاف کے منحرف اراکین ان کو بچا نہیں سکیں گے۔ ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ عثمان بزدار بطور ایکٹنگ وزیراعلیٰ بحال ہو چکے ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی کے منحرف 25 اراکین کو فارغ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے الیکشن کے ذریعے دوبارہ انتخاب ہو گا، فیصلہ صدارتی ریفرنس پر ہی نہیں 184 تین اور 186 کے تحت پڑھا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کا سنہرا ترین دن ہے کہ آئین کو بحال کر دیا گیا جب کہ ووٹ بیچنے والوں کا راستہ ہمیشہ لے لیے روک دیا گیا، منحرف اراکین کا ووٹ نہیں گنا جائے گا،حمزہ شہباز اکثریت کھو چکے ہیں۔ ماہر قانون فیصل چودھری نے کہاکہ فیصلے سے پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے،منحرف ارکان کو ووٹ شمارنہیں ہوتا تو وزیراعلیٰ منتخب ہی نہیں ہوئے ،آئین کے تحت نیا مینڈیٹ لینا پڑے گا۔ بیرسٹر احمد پنسوٹا نے کہاکہ اس فیصلے کے بعد پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت اپنی اکثرت کھو چکی ہےاگر وہ خود اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوتے تو آئین میں درج طریقہ کار کے تحت جب ان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جائے گا تو اکثریت ثابت نہ کرنے پر خود بخود ان کی حکومت ختم ہوجائے گی ۔ آئینی ماہرین کے مطابق حمزہ شہباز کو دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا پراسیس اب اتنا ہی پیچیدہ ہوچکا ہے جتنا اس سے پہلے حمزہ شہباز کا الیکشن، ان کا حلف اور پھر ابھی تک ان کی کابینہ کا نہ بننا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ منحرف ارکان کے نااہل ہونے کی صورت میں باقی رہ جانے والے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی اکثریت جس پر اپنے اعتماد کا اظہار کرے گی وہی آئینی اور قانونی طور پر منتخب قائد ایوان ہوگا۔