اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) چیف اکنامسٹ ڈاکٹر زبیر خان عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔ڈاکٹر زبیرکے استعفے کے حوالے سے جاوید حسن نامی صارف کی طرف سے کئے گئے ایک ٹویٹ کے مطابق ڈاکٹر زبیر خان کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی ڈیٹا میں ردوبدل کی کوشش کی گئی، میرے انکار پر مجھے استعفیٰ دینے کا کہا گیا جس کے بعد آج میں نے اپنا استعفیٰ دے دیا، میں اب گھر پر آرام کروں گا اور ریٹائرمنٹ کی زندگی انجوائے کروں گا ۔ سابق وزیر خزانہ شوکت نے جاوید حسن کا ڈاکٹر زبیر کے استعفے کے حوالے سے پیغام شیئرکرتےہوئے کہاکہ میرا خیال درست تھا، ڈاکٹر زبیر پر جی ڈی پی کا ڈیٹا تبدیل کرنے کا دباؤ تھا ،ہم اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ حقائق کو دبایا نہیں جا سکتا،۔ادھر حماداظہر نے بھی ٹوئٹ میں کہا کہ ن لیگ نےسرکاری اعداد و شمارمیں بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کی ، اس کے نتیجےمیں چیف اکنامسٹ ڈاکٹرزبیرخان نےاستعفیٰ دے دیا ہے۔۔ علاوہ ازیں سابق وزیرخزانہ کو جواب دیتے ہوئے معاشی تجزیہ کار شہباز رانا نے کہا کہ محترم جناب ڈاکٹر زبیر نے جی ڈی پی تنازع کی وجہ سے استعفیٰ نہیں دیا۔ چیف اکانومسٹ کا جی ڈی پی نمبر مرتب کرنے میں کوئی کام نہیں ہے یہ چیف شماریات کا کام ہے۔انہوں نے کسی اور وجہ سے استعفیٰ دیا۔ کچھ لوگ اسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے ٹوئسٹ دے رہے ہیں۔اس سے پہلے میڈیارپورٹس میں بھی ذرائع ادارہ شماریات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہباز حکومت رواں مالی سال کی معاشی صورتحال کو خراب دکھانے کیلئے دباو ڈال رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ جولائی تامارچ صنعتی پیداوار دس اعشاریہ چار فیصدریکارڈ کی گئی، جس کا کریڈٹ عمران حکومت کوگیا۔قومی پیداوار زیادہ ہوئی تو کریڈٹ عمران حکومت کو جائے گا۔ شہبازحکومت نے ادارہ شماریات کوجی ڈی پی تخمینہ کا فارمولا بدلنے کی ہدایت بھی کی تھی،شہبازحکومت نےرواں سال جی ڈی پی کی شرح چار فیصدہونےکی تشہیر بھی شروع کردی تھی ، تشہیری مہم میں دوہزار سترہ اٹھارہ کے اعدادوشمار نمایاں کئے جارہے تھے
چیف اکنامسٹ ڈاکٹر زبیر مستعفی،جی ڈی پی کا ڈیٹا تبدیلی کیلئے دباؤ تھا،شوکت ترین کا دعویٰ،ایساہرگزنہیں،شہبازرانا








