بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سینئرصحافیوں و اینکرز کےٹوئٹر پر اتحادی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر طنزیہ وار 

 اسلام آباد(ممتازرپورٹ)سینئراینکر ز اور صحافیوں نے موجودہ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کے مدنظر وزیر اعظم شہباز شریف کو فوری حکومت چھوڑنے اور انتخابات کی طرف جانے کا مشورہ دے دیا، سینئر صحافیوں اور اینکر ز طلعت حسین، نجم سیٹھی ، محمد مالک، نصرت جاوید ، سلیم صافی، سرل المیڈا، مطیع اللہ جان، کامران یوسف، عمر چیمہ جن کی اکثریت (ن) لیگ کی حامی تصور کی جاتی ہے،نے جمعرات کو ٹویٹر پر کئے گئے اپنے پے در پے ٹویٹس میں اتحادی حکومت کو قومی اسمبلی کی مدت پوری کرنے کیلئے مبینہ طور پر کوئی یقین دہانی نہ کرائے جانے پرمقتدرحلقوں اور بروقت فیصلہ سازی نہ کرنے پر وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ طلعت حسین نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اب میاں شہباز شریف کو یہ احساس ہو رہا ہو گا کہ بڑے بھائی نواز شریف کا حکومت نہ لینے کا موقف درست تھا۔ طلعت حسین نے کہا کہ اب اگرشہباز شریف آئی ایم ایف کی شرائط مانتے ہیں تو انہیں ووٹرز کے غیض و غضب کا سامنا کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عمران خان کی تباہ کن پالیسیوں کی سیاسی قیمت چکانے سے انکار کر دیا، اب شہباز شریف کے پاس جو بطور وزیراعظم بے سمت اور غیر موثر نظر آتے ہیں اسمبلی تحلیل کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ سینئر اینکر پرسن محمد مالک کے مطابق وزیراعظم ہائوس میں مسلسل صلاح مشورہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم کی تمام مصروفیات منسوخ کر دی گئیں، صرف وزیراعظم کا قوم سے خطاب کب ہو گا اور اس میں کیا بات ہو گی؟ پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ محمد مالک نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ اب ایک صفحہ پر نہیں رہیں، دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے؟ نصرت جاوید نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ شہباز شریف اور ان کے اتحادی اسٹیبلشمنٹ کے جھانسے میں آ گئے ،عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹانا ایک انتہائی برا آئیڈیا تھا اور اب اتحادی حکومت کے پاس فوری انتخابات میں جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ نجم سیٹھی نے اپنے ٹویٹ میں شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ اسمبلی تحلیل کر دی جائے اور الیکشن کی طرف جایا جائے۔ سلیم صافی نے بھی اپنے ٹویٹ میں مقتدرر حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ مقتدر حلقوں نے ماضی سے سبق نہیں لیا، مقتدر حلقوں نے عمران خان کی بلیک میلنگ میں آکر حکومت کو اسمبلی توڑنے پر مجبور کیا تو پھر مقتدر حلقوں کیلئے’’ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ والی پوزیشن ہو گی، نہ تو اب عمران خان ان کا اپنا بنے گا اور اس صورت میں باقی جماعتیں بھی ان کے خلاف کھڑی ہوں گی۔ مطیع اللہ جان نے سارے اتحادیوں پر طنز کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ’’ ہور لو عدم اعتماد کے مزے‘‘۔ سرل المیڈا نے اپنے ٹویٹ میں کہاکہ عمران خان اقتدار سے محرومی کے بعد چالیس روز سے جو کچھ کر رہا ہے کسی میں جرات نہیں کہ وہ اسے روک سکے جبکہ مسلم لیگ(ن) اس ساری صورتحال میں ویسے ہی بے یارو مددگار نظر آتی ہے جیسے2017-18تھی۔صحافی عمر چیمہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو عمران خان کی شاگردی اختیار کرکے اداروں سے نبردآزما ہونے کا طریقہ سیکھنا چاہیے جبکہ کامران یوسف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ایک طرف اتحادی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے غیرجانبدار ہونے کے دعوے کرتی ہیں تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ سے ہی مشکل فیصلوں کیلئے حکومت میں رہنے کی ضمانت مانگ رہی ہیں’’واہ‘‘