بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیب حراست میں مرد اہلکار رات کو میری ویڈیوز بناتے ،زبان کھولی تو بات دور تک جائے گی ، مریم نواز

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نیب کی حراست کے دوران رات کے وقت مرداہلکار ان کے کمرے میں آتے ،ویڈیو ز بنائی جاتیں،ایک بار انہوں نے اس وقت کے لاہور کے ڈی جی نیب کو بھی جیل کے باہر دیکھا جو اندھیرے میں چھپ کے کھڑے تھے ۔ہفتہ کے روز مسلم لیگ(ن) کی سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ شیریں مزاری کو ان کی ہی بزدار حکومت کی طرف سے قائم کئے گئے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ،ان پر تو سنگین الزام ہیں ،جب مجھے دو بار گرفتار کیا گیا تھا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھ پر کوئی الزام تھا،میرے اوپر کوئی الزام کوئی الزام نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک بار مجھے اس لئے گرفتار کیا گیا کہ میں نے والد کی معاونت کی ،تب میری عمر سولہ سترہ سال تھی اور اس الزام کی پاداش میں مجھے چار ماہ مجھے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا اور اس کے بعد جب میں نے نوازشریف کی رہائی کےلئے تحریک شروع کی اور جلسے کئے تو ان میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کرنا شروع کردی ، اس دوران میں ایک دن کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نوازشریف سے ملنے گئی ،میں ملاقات کےلئے شہبازشریف کے ساتھ جیلر کے دفتر میں بیٹھی تھی ،میرے بچے بھی میرے ساتھ تھے ،جب ہم نوازشریف کے پاس آ کر بیٹھے تو پانچ دس منٹ بعد جیلر نے آ کے کہا کہ شہبازشریف آپ کو باہر بلا رہے ہیں ۔مریم نواز نے کہا کہ میرے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ باہر کیا ہورہا ہے ،نوازشریف نے جیلر سے کہا کہ شہبازشریف تو اندر آنے والے تھے جس اس نے کہا کہ نہیں وہ مریم کو باہر بلا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب میں باہر گئی تو جیل کے گیٹ پر شہباز شریف کے ساتھ نیب کی ٹیم کھڑی تھی اور ساتھ پولیس تھی ، مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں ، جب میں نے پوچھا کہ مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے تو انہوں نے کہا کہ چودھری شوگر مل کا کوئی کیس ہے جس میں آپ سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں ،میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے والد سے مل کے آتی ہوں ، ابھی والد کے پاس ہی تھی کہ نیب کی ٹیم اندر آگئی اور مجھے میرے والد اور بچوں کے سامنے گرفتار کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جس مقدمے میں انہوں نے مجھے چار ماہ آٹھ دن نیب میں رکھا گیا، باقی دن کوٹ لکھپت جیل کے ڈیتھ سیل میں رکھا ،آج تک وہ مقدمہ کسی عدالت میں رجسٹرڈ نہیں ہوا ،کوئی ریفرنس نہیں بنا ، تفتیش وہیں رہ گئی جہاں تھی ۔انہوں نے کہا کہ جب مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا تو تفتیش یہ ہوتی تھی کہ آج کل آپ کون سی کتاب پڑھ رہی ہیں ، آپ کے گھر میں نظام کون چلاتا ہے ،نوازشریف پارٹی کے فیصلوں سے مشاورت کیسے کرتے ہیں ؟صرف وقت گزاری کےلئے ایسے سوال پوچھے جاتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ سخت گرمی میں میرا سر تپ رہا ہوتا تھا ،ایک پنکھا تھا جو چند گھنٹے بھی نہیں چلتا تھا۔انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری کو تو خواتین پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیا مجھے دونوں مرتبہ مردوں نے گرفتار کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ کبھی میں قوم کے سامنے یہ باتیں ضرور لائوں گی کہ نیب میں میرے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا، کہاں کیمرے لگائے ہوئے تھے اور کیا کیا کرتے تھے ،رات کو 12بجے مرد عہدیدار دھاوا بولتے تھے اور میری ویڈیوز بناتے تھے ،ان کے پاس وہ ویڈیوز ابھی بھی موجود ہیں اور ایک مرتبہ جب رات 12بجے میرے کمرے میں آئے تو کھڑکی سے دیکھا کہ اس وقت کے لاہور کے ڈی جی نیب باہر اندھیرے میں چھپ کر کھڑے تھے اور انہوں نے پولیس افسران کو ریڈ کےلئے میرے کمرے میں بھیجا۔مریم نواز نے کہا کہ اگر میں نے زبان کھولی کہ انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا تو بات بہت دور جائے گی، جب مناسب وقت آیا تووہ باتیں قوم کے سامنے رکھوں گی ۔