لندن /اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائدنوازشریف نے فوری حکومت سے الگ نہ ہونے کے فیصلے کی توثیق کردی،مسلم لیگ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ فوری حکومت نہیں چھوڑی جائے گی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا جس کی اندرونی کہانی اب سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے معاملے پر نواز شریف اور شہباز شریف میں تبادلہ خیال ہوا، نواز شریف نے لانگ مارچ پر حکومتی پلان مرتب کرکے اسے اتحادی جماعتوں سے شیئر کرنے کی ہدایت کی ہے۔اجلاس میں سیاسی، معاشی اور آئینی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ اجلاس میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اجلاس میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کو متاثر کرنے والی قوتوں کیخلاف پلان پر مشاورت کی گئی، نواز شریف نے شہباز شریف کو ہدایت کی کہ وفاقی بجٹ کی بھرپور تیاری کی جائے اور عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کی جائے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) اپنا تیارکردہ ایجنڈا جلد اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں شیئرکرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو امن وامان کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھنےکی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو پنجاب کی جیلوں کو صاف کروانے اور سیاسی شخصیات کو الگ سیل میں رکھنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
اجلاس میں نواز شریف نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ ’رانا صاحب‘‘آپ امن امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے تیار رہیں۔
یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ عمران خان کے کسی غیر آئینی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا، حکومت اور اتحادیوں کے فیصلے سے اہم شخصیت کو آگاہ کردیا گیا ہے، حکومت کیخلاف محاذ آرائی سے بھی سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ قوم کو انتشار پیدا کرنے والوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت ہر صورت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔
نوازشریف نے حکومت سے الگ نہ ہونے کے فیصلے کی توثیق کردی ،بجٹ کی بھرپورتیاری کی ہدایت








