بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حازم بنگوار کا اُن کے لباس پر تنقید کرنیوالوں کو کرارا جواب

کراچی: سابق اسسٹنٹ کمشنر نارتھ ناظم آباد حازم بنگوار نے اُن کے منفرد لباس پر تنقید کرنے والوں کو سوشل میڈیا پر منہ توڑ جواب دیا ہے۔

11 مئی ہفتے کی شب کراچی میں ‘کشمیر ہم اسٹائل ایوارڈز 2024′ کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں فیشن، فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اور باصلاحیت فنکاروں نے شرکت کی تھی۔

اس ایوارڈ شو میں جہاں پاکستانی اداکارائیں اپنے بولڈ لباس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ٹرول ہوئیں تو وہیں حازم بنگوار نے اپنے منفرد اسٹائل کی وجہ سے تقریب سمیت سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی۔
حازم بنگوار نے سیاہ رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس پر اُنہوں نے مصنوعی پَر بھی لگائے ہوئے تھے، حازم بنگوار نے اپنے اس منفرد اسٹائل کے ساتھ جیسے ہی ایوارڈ شو کی تقریب میں انٹری دی تو شرکاء اُنہیں دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے جبکہ سوشل میڈیا پر حازم بنگوار کا مذاق اُڑایا گیا تھا۔


حازم بنگوار پر ناصرف سوشل میڈیا صارفین نے بلکہ شوبز شخصیات سمیت سیاسی شخصیات نے بھی تنقید کی تھی جن میں فواد چوہدری بھی شامل تھے۔

اب حازم بنگوار نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر پوسٹ جاری کی جس میں اُنہوں نے اپنے ناقدین کی تنقید پر ردعمل دیا ہے۔

حازم بنگوار نے کہا کہ میرے خیال میں زیادہ تر لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ میں بھی انسان ہوں اور مجھے بھی دیگر لوگوں کی طرح اپنی نجی زندگی سکون سے گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ میں نے عوام کی خدمت کے لیے اپنی پُرتعیش زندگی کو پیچھے چھوڑا لیکن مجھے اس کی قیمت چُکانی پڑ رہی ہے، روزانہ مجھے میرے لباس کی وجہ سے ٹرول کیا جاتا ہے، مجھ پر تنقید کی جاتی ہےاور نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

حازم بنگوار نے کہا کہ میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں باقاعدگی سے نبھا رہا ہوں اور ہمیشہ اپنے دفتر اچھا اور سادہ لباس ہی پہن کر جاتا ہوں۔

اُنہوں نے شکوہ کیا کہ کسی ڈاکٹر سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اپنی نجی زندگی میں بھی اپنا لیب کوٹ پہن کر رکھے لیکن مجھ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ میں اپنی نجی زندگی یا نجی تقریب میں وہی لباس پہن کر جاؤں جو میں اپنے دفتر میں پہنتا ہوں۔

حازم بنگوار نے مزید کہا کہ میرا مقصد صرف عوام کی خدمت کرنا ہے، میں پُرسکون انداز میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہوں اور مجھے اُمید ہے کہ آگے بھی مجھے میری ذمہ داریاں سکون سے نبھانے دی جائیں گی۔