اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انگریزی اخبار”دی نیوز” میں مسلسل دو روز عدلیہ مخالف اشتہار چھاپنے پر عدالت نے نوٹس لے لیا ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے عدلیہ مخالف اشتہار چھاپنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے پیر کے روز میر شکیل الرحمن کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم کیساتھ بیان حلفی بھی جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ایڈیٹر دی نیوز عامر غوری عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ “آپ نے جو اشتہارات چھاپے وہ صحافتی رپورٹنگ نہیں، آپ نے اشتہار میں عزت مآب چیف جسٹس پاکستان کی تصاویر لگائیں اس معاملے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کریں گے،آپ اشتہار کا سائز دیکھیں اور اس کا متن پڑھیں، کمرشل مقاصد کے لیے عدالتوں کیخلاف اشتہار چھاپا ہے۔”اس چیف جسٹس نے کہا کہ معاملے پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے اشتہار چھاپنا بہت ہی سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے” عامر غوری نے کہا ہم اس معاملے پر عدالت سے معذرت کرتے ہیں عدالت نے کہا “کوئی معذرت نہیں اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،میر شکیل الرحمن کو کہیں وہ خود عدالت میں پیش ہوں۔عامر غوری نے کہا “بیرسٹر فہد ملک کی فیملی نے اشتہار دیا تھا اشتہار چھاپنا غیر ارادی غلطی تھی، عدالت نے کہا آپ نے اشتہار میں لکھا ہے کہ جج نے ڈیل کی یہ مذاق بن گیا ہے جس کا جو دل کرتا ہے وہ عدالتوں سے متعلق کہہ دیتا ہے عدالت کو بتایا آج دی نیوز نے معذرت بھی چھاپی ہے۔
انگریزی” اخبار دی نیوز” میں عدلیہ مخالف اشتہار چھاپنے پر میر شکیل الرحمن اسلام آباد ہائی کور ٹ میں طلب








