بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہم سی پیک کے اپ گریڈڈ ورژن کی طرف جا رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مزید بہتر ہورہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق رپورٹ کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، ہمارے پاس وہ ہے جو بہت سے ممالک کے پاس نہیں ہے، ہمارے پاس 66 فیصد نوجوان ہیں، پاکستان آئی ٹی کے شعبے میں بہت بڑی مارکیٹ ہے، جب کہ حکومت نے فنی تربیت پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مزید بہتر ہورہی ہے، پاکستان کو حال ہی میں سلامتی کونسل کی دوبارہ رکنیت ملی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں، ہم اپنے ہمسایوں سے بہترین تعلقات چاہتے ہیں، مشرق وسطیٰ پاکستان کو اتحادی سمجھتا ہے، ایرانی صدرکا دورہ پاکستان انتہائی کامیاب رہا تھا، ہم ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، سعودی اعلیٰ سطح وفد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک ذمہ دار نیوکلیئر ملک ہیں، دنیا میں ہماری اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، ہم جنگ نہیں امن پر یقین رکھتے ہیں، پاکستان 182 ووٹ لے کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہوا، ہمارے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں، ایرانی صدر کا دورہ پاکستان بھی کامیاب رہا، سعودی اعلیٰ سطحی وفد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا،
ان کا کہنا تھا کہ ہماری آبادی کا 68 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، فنی تربیت پر توجہ ہماری ترجیح ہے،
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین کا حالیہ دورہ نئے عزم کے ساتھ کیا، وزیراعظم کے دورہ چین کا مقصد سی پیک کے دوسرے مرحلے کی شروعات تھی، سی پیک میں 64 ملین ڈالر کی انوسٹمنٹ کی بات ہوئی، پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت بڑی مارکیٹ ہے، دو لاکھ آئی ٹی کے پروفیشنلز کو ہواوے ہر سال تربیت دے گا،
دو لاکھ نوجوانوں کی آئی ٹی کے شعبے میں تربیت بڑی کامیابی ہے،
ہواوے نے پاکستان میں سیف سٹی کے دو پراجیکٹ لگائے ہیں، ہم سی پیک کے اپ گریڈڈ ورژن کی طرف جا رہے ہیں، ہماری آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، بشام واقعہ کی مکمل تحقیقات ہوئیں، بشام واقعہ پر چینی انجینئرز اور ورکرز سے بات کی اور انہیں سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی، ہماری ترجیح سیکورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی سیکورٹی کو یقینی بنانا ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران ہم نے سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ترجیحی اقدامات اٹھائے، اپنے ہمسایوں کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتے ہیں،