سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دوحہ میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد ابھی پاکستان پہنچا ہوں، گزشتہ ہفتے پاکستانی وفد کے آئی ایم ایف سے مفیدوتعمیری مذاکرات ہوئے، مذاکرات میں مالی سال 2022 کے نمایاں خدوخال پر تبادلہ خیال ہوا۔
I have just returned from Doha after talks with the IMF. Our delegation had very useful and constructive discussions with the IMF team over the last week.
We discussed significant slippages in FY 22, caused in part by the fuel subsidies given in February 2022. 1/3
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) May 26, 2022
انہوں نے مزید کہا کہ فروری 2022 میں فیول پر دی گئی سبسڈیز سے متعلق بات چیت ہوئی، آئی ایم ایف سے مالی سال 2023 کے مالی اہداف پر تبادلہ خیال ہوا، بڑھتے افراط زر، گرتے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر بات ہوئی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت مالی سال 2023 میں بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے پرعزم ہے، پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فیول اور بجلی پر سبسڈی دی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے اور پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔









