اسلام آباد(ویب ڈیسک) معلوم ہوا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اب کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو کرپشن کیسز میں من مانے انداز سے گرفتار نہیں کرے گا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں فیصلہ ہوا ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کسی بھی ملازم یا رکن قومی اسمبلی کیخلاف کرپشن کیس میں نیب پہلے اسپیکر قومی اسمبلی سے رجوع کرے گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین نیب کے درمیان اس مفاہمت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے عہدیدار کیخلاف من مانے انداز یا کمزور شواہد کی بنیاد پر کرپشن کا مقدمہ دائر کیا جائے اور نہ اسے گرفتار کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے کسی رکن یا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے عہدیدار کو کرپشن کے الزام میں کارروائی یا گرفتار کرنے سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر معاملے کا میرٹ پر جائزہ لیں۔
نیب کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی یا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے عہدیداروں کیخلاف کرپشن کا ہر کیس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا جائے گا۔
رابطہ کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دی نیوز سے بات چیت میں تصدیق کی کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور نیب کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کرپٹ کو تحفظ نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ٹھوس شواہد کی دستیابی کے بغیر کسی بے گناہ کو من مانے انداز سے گرفتار نہ کیا جائے اور اس بنیاد پر کسی رکن قومی اسمبلی یا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے عہدیدار کی محض الزامات کی بنیاد پر بری تشہیر نہ کی جائے۔
اسپیکر نے کہا کہ ان کے پاس جو کیس بھی آئیں گے ان کا میرٹ پر جائزہ لیا جائے گا۔
دریں اثناء سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین نیب کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بنیاد پر نیب کی جانب سے نئے ایس او پیز جاری کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
اسی طرح کے ایس او پیز ارکان سینیٹ اور ارکان صوبائی اسمبلی کیلئے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ نیب کا یہ اقدام اس کے حال ہی میں نظرثانی شدہ ایس او پیز کے مطابق ہے جو تاجروں اور سویلین بیوروکریسی کو غیر ضروری ہراسگی سے بچانے کیلئے جاری کیے گئے تھے۔
بیوروکریسی اور تاجر برادری کی طرح ماضی میں سیاستدانوں کو بھی نیب نے گرفتار کیا، جیلوں میں ڈالا اور ہراساں کیا۔ من مانے انداز اور ٹھوس شواہد کے بغیر کرپشن کے مقدمات بنائے گئے اور کئی سیاستدانوں کیخلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کیے گئے۔
نیب نے انہیں کرپٹ شخص کے طور پر پیش کیا لیکن اکثر کیسز میں بیورو عدالت میں الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اسی وجہ سے سپریم کورٹ بھی ماضی میں کہہ چکی ہے کہ احتساب کے نام پر نیب کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کیلیئے بار بار استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
نیب کی جانب سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور دیگر کیخلاف ایل این جی کیس میں ریفرنس واپس لینا نہ صرف بیورو کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف بلکہ ہراساں کرنے اور سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے کی پالیسی میں تبدیلی کے واضح ارادے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
نیب نے حال ہی میں اپنے تمام دفاتر کو صرف حقیقی شکایات کو منصفانہ انداز سے نمٹانے کیلئے نئے ایس او پیز جاری کیے، اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ غیر سنجیدہ نوعیت کی شکایات پر کارروائی میں قیمتی وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں جس سے بیورو کی کارروائیوں اور کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سرکاری ملازمین کیخلاف شکایات کی صورت میں درج ذیل ہدایات جاری کی گئیں تھیں جن پر سختی سے عمل کی تلقین کی گئی ہے: ۱) سرکاری ملازمین کیخلاف گمنام شکایات پر غور نہیں کیا جائے گا، ۲) شکایت کی تصدیق کے عمل کے دوران سرکاری اہلکاروں کی شناخت کو صیغۂ راز میں رکھا جائے گا، ۳) گریڈ 19؍ تک کے افسران کیخلاف شکایات پر کارروائی کا اختیار ریجنل ڈائریکٹر جنرلز کو دیا گیا ہے جبکہ گریڈ 20؍ اور اس سے بالا گریڈ کے افسران کیخلاف شکایات پر کارروائی کیلئے چیئرمین نیب کی منظوری درکار ہوگی، ۴) شکایت کی تصدیق اور انکوائری کے مرحلے کے دوران سرکاری ملازمین کو نیب کے احاطے میں ذاتی حیثیت میں طلب نہیں کیا جائے گا، ۵) متعلقہ صوبائی چیف سیکریٹریز کی مشاورت سے ریجنل ڈائریکٹر جنرلز متعلقہ سول سیکرٹریٹ میں اکاؤنٹبلٹی فیسلیٹیشن سیلز (اے ایف سیز) قائم کریں گے، ۶) تمام خط و کتابت اور معلومات کا اشتراک اے ایف سیز کے ذریعے کیا جائے گا۔
تاجروں کیخلاف شکایات پر غور کیلئے ایس او پیز میں لکھا ہے کہ : ۱) تاجروں کیخلاف کسی گمنام شکایت پر غور نہیں کیا جائے گا، ۲) تاجروں کی شناخت کو سختی سے صیغۂ راز میں رکھا جائے گا، ۳) شکایت کی تصدیق کے مرحلے کے دوران کسی تاجر کو نیب احاطے میں طلب نہیں کیا جائے گا، ۴) باوقار انداز سے تحقیقات کیلئے نیب کے ریجنل آفس میں ایک علیحدہ بزنس فیسیلیٹیشن سیل (بی ایف سی) قائم کیا جائے گا۔
بی ایف سی متعلقہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے، ریئلٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے اور دیگر کاروباری تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی (کیس کی بنیاد پر اگر ضرورت محسوس ہو تو)۔
(انصارعباسی)









