بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران صحافی کے سوالات پر برہم، پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

پشاور(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کرکٹ میں جانور ایمپائر لانے، ملک میں نفرت کی سیاست کرنے، فوجی افسران کو گالیا ں دینے، یوٹیوبرز اور کی بورڈ واریئرز کے ذریعے اسلام آباد فتح کرنے ، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کی دیواریں گرانے اور اپنے کارکنوں کی تربت سے متعلق صحافی کے سخت سوالات پر برہم ہوگئے اور انتہائی ناگواری میں سوال سننے کے بعد شدید غصہ میں صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی تمام باتیں بالکل غلط ہیں جس کی مجھے سمجھ نہیں آئی بلکہ آپ نے میری پریس کانفرنس میں غلط قسم کی تقریر کی ہے جس کے بعد عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران پشاور کے ایک سینئرصحافی نے عمران خان سے ایک ساتھ کئی سوالات کئے اور پوچھا کہ ’’ آپ کرکٹ میں جانور ایمپائر( نیوٹرل) لائے ہیں جس پر ہم آپ کو پورا کریڈٹ دیتے ہیں، خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ محمود خان کی خیر ہو باقی سب خیر خیریت ہے، آپ پشاور آئے ہیں تو ذرا اپنے وزرا کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں ،ہم دوسرے محکموں کی کیا بات کریں گے آپ کی حکومت سے صرف میڈیا کا شعبہ سنبھالا نہیں جارہا ہے، خیبر پختونخوا میں آپ کے کثیر تعداد میں فالوورز ہیں جو نہ صرف آپ کو ووٹ دیتے ہیں بلکہ احتجاج کیلئے بھی آپ کیساتھ جاتے ہیں مگر لوگوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کی دیواروں کو گرتے دیکھا اور نہ ہی ان عمارتوں میں یونیورسٹیاں بنتے دیکھیں، نہ پاکستان کو آزاد ہوتے اور نہ ہی چوروں کو لٹکتے ہوئے دیکھا، اب اگر آپ ایک مرتبہ پھر عوام کو اسلام آباد پر چھڑائی کیلئے لے جائیں گے تو آپ کے پاس کون سا نیا نعرہ ہے؟ آپ کی ٹیم نے یوٹیوبرز اور کی بورڈ واریئرز سے اسلام آباد فتح کرنے کی کوشش کی حالانکہ یوٹیوبرز اور کی بورڈ واریئرز سے امریکہ اور نیٹو افغانستان فتح نہیں کرسکے ہیں آپ کیا اسلام آباد فتح کریں گے، گلی کوچوں میں لوگ فوجی افسران کو گالیاں دے رہے ہیں، آخر یہ کون لوگ ہیں؟ آپ اپنے ورکروں کو پاکستان کے اداروں خاص کر فوج اور عدلیہ کے حوالے سے کیا پیغام دیں گے؟ عوام توقع کررہے ہیں کہ آپ اپنے ورکروں کو تربیت دیں گے، نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست ختم کریں گے ‘‘

عمران خان انتہائی ناگواری کیساتھ صحافی کا سوال سنتے رہے اور آخرکار صحافی کو کہاکہ میں آپ کے سوال کا انتہائی سخت جواب دے سکتا ہوں مگر میں نہیں دوں گا البتہ آپ کو صرف ایک بات بتاتا ہوں کہ ہم ملک فتح نہیں کرنا چاہتے، انتخابات کے اعلان کا مطلب ملک فتح کرنا نہیں ہوتا بلکہ عوام کی رائے اور حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے، عوام جس کو مرضی ووٹ دیں، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے خلاف سازش ہوئی ہے جس پر صدر پاکستان نے سپریم کورٹ کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں سازش واضح ہے ، پاکستان آزاد ملک ہے اور ہم کسی امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کرسکتے، عمران خان نے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے جو باتیں کی ہیں مجھے ان کی سمجھ نہیں آئی، کیا آپ کو علم ہے کہ آج تک کوئی بھی سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں کرسکا ہے، سوشل میڈیا نے عوام کو آواز دی ہے، اگر میں نفرتیں پھیلاتا تو کل اسلام آباد میں جو حالات تھے اگر ہم احتجاج ختم نہ کرتے تو آپ کو پتہ چل جاتا کہ نفرتیں کیسے پھیل جاتی ہیں، ہم اپنی طرف سے ملک کو اکٹھا کرنے کی کوشش کررہے ہیں.

عمران خان نے صحافی کو کہاکہ آپ نے جو باتیں کی ہیں وہ بالکل غلط ہیں بلکہ آپ نے میری پریس کانفرنس میں غلط قسم کی تقریر کی اس کے بعد عمران خان شدید غصہ میں پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔