اسلام آباد(طارق محمود سمیر) مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں نے نہ صرف عوام کوکنگال کرکے رکھ دیا ہے بلکہ یہ معاہدے قومی سلامتی کیلئے بھی خطرے کا باعث بنتے جا رہے ہیں، چالیس خاندانوں نے اربوں کھربوں کما لئے ،24روپے فی یونٹ کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی ظلم نہیں توکیا ہے ؟اس معاملے پر چالیس خاندانوںکو چالیس روزچلے پر رکھ کر مسئلہ حل کیا جائے ورنہ حکمرانوں کو چند ماہ میں عوام کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سابق نگران وزیر تجارت اور معروف بزنس مین گوہر اعجاز نے آئی پی پیز معاہدوں سے متعلق اہم انکشافات کئے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ چار پاور پلانٹس کو ایک یونٹ بجلی پیدا کئے بغیر ایک ہزارکروڑ روپے ماہانہ ادا کئے جا رہے ہیں اور کیپیسٹی چارجزکی مد میں جنوری 2024سے مارچ تک 150ارب روپے ادا کئے گئے ۔انہوں نے کہا ہماری حلال کمائی چالیس خاندانوں میںکیپیسٹی چارجز کے نام پر تقسیم کی جارہی ہے ،گوہر اعجاز نے ایک معاملے کی نشاندہی کی ہے لیکن جب وہ نگران حکومت میں وفاقی وزیر تھے اس وقت اس معاملے پر خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی ، نگران دور حکومت میں بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا غصہ عوام نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے خلاف نکالا۔انہوں نے جن چالیس خاندانوں کا ذکر کیا ہے انہیں چاہیے کہ ان چالیس خاندانوں کے نام بھی قوم کیساتھ شیئر کریں تاکہ قوم کو بھی پتہ چل سکے کہ ان چالیس خاندانوں کوکیسے نوازا گیا اور فی یونٹ 24روپے کیپسٹی چارجز کے نام پر وصولی کی جن لوگوں نے منظوری دی ان کا احتساب کون کرے گا، وفاقی وزیر اویس لغاری اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ کیپیسٹی چارجز24نہیں 18روپے فی یونٹ لئے جا رہے ہیں ، ماضی میں شیخ رشید نے ایک ٹرم استعمال کی تھی کہ انہیں چالیس روز چلے پر رکھا گیا اور چلے سے اٹھ کر سیدھا انٹرویو دینے آیا ہوں ، اگر سیاسی مقاصدکیلئے کسی سیاسی رہنما کو چلے پر رکھا جاسکتا ہے توکیا قومی سلامتی کیلئے خطرہ بننے والے آئی پی پیز منصوبوں کے چالیس خاندانوں کو چلے پر بلا کر یہ مسئلہ حل نہیںکیا جاسکتا ، اس معاملے میں وزیراعظم شہبازشریف اور آرمی چیف دونوں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مہنگی بجلی کا مسئلہ حل ہو ، صنعتیں چلیں اور لوٹ مارکا سلسلہ روکا جائے ۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کا مخصوص نشستوں کے معاملے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر غصہ ٹھنڈا نہیں ہورہا ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بعد ن لیگ کے صدر وسابق وزیراعظم نوازشریف بھی کھل کر بول پڑے ہیں۔انہوں نے بجلی کی قیمت میں اضافے کو غریبوں سمیت سب کے لیے مصیبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے ساتھ اچھا سلوک نہیںکیا جا رہا ہے، ترقی کرتا ہوا ملک گڑھے میں گرا دیا گیا لہٰذا فیصلے دینے والوں کو اب بھی سوچنا ہوگا،میاں نوازشریف 2017میں بھی عدلیہ کے بعض ججز اور سابق اسٹیبلشمنٹ کی سازش کا شکار ہوئے اور انہیں اقتدار سے نکال کر عمران خان کو لایا گیا ، عمران خان کو لانے والے بعد میں پچھتائے لیکن اب عمران خان کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں ،جھوٹا اور سچا بیانیہ بنانا کوئی عمران خان سے سیکھے ، اینٹی امریکا بیانیہ بنایا ووٹ بینک میں اضافہ ہوا اور اب امریکا سے ہی عمران خان کے حق میں موثر آوازیں اٹھ رہی ہیں ، شہبازشریف جب سے آئے ہیں ملکی معیشت کو صحیح راستے پر ڈالنے اور سرمایہ کاری لانے کیلئے کوشاں ہیں ، سٹاک مارکیٹ نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے ،ایس آئی ایف سی کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کے وعدے ہورہے ہیں لیکن عدالتی فیصلے کے بعد سٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات پڑے اور نوازشریف نے اسی جانب اشارہ کیا ہے ، ماضی میں ایک دوسرے کو مولانا ڈیزل اور یہودیوں کا ایجنٹ کہنے والے قریب آرہے ہیں ، جے یو آئی نے تحریک انصاف سے اتحادکیلئے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے تاہم مولانا فضل الرحمان نے ایک بڑا دعویٰ کردیا ہے کہ تحریک انصاف شفاف انتخابات کی راہ ہموارکرنے کیلئے اسمبلیوںسے مستعفی ہونے کیلئے آمادہ ہے ، کے پی حکومت بھی چھوڑ دے گی ، پی ٹی آئی سے معاملات بہتر ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حقیقی مینڈیٹ نہیں ملا ، مولانا فضل الرحمان کی سیاست ماضی میں عمران خان کے خلاف چلتی رہی ہے ، اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکالنے کا فارمولا مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری لائے تھے اوراس کا ناقابل تلافی سیاسی نقصان اس وقت کی مقبول سیاسی جماعت ن لیگ کو اٹھانا پڑا، ریاست بچانے کے چکر میں ن لیگ کی سیاست کو ڈبو دیا گیا، بحالی کی کوششیں کامیاب نہیں ہوپا رہیں ،آصف زرداری خود صدر بن گئے دیگر آئینی عہدے بھی لے لئے ، مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کو یہودیوںکا ایجنٹ قرار دینے کے اپنے بیانات کو سیاسی بیان قراردے دیااور اب تحریک انصاف کے قریب ہوگئے ہیں ،عمران خان کو چاہیے کہ وہ اسمبلیوں سے باہر جانے کی کسی تجویز پرکان نہ دھریںکیونکہ ماضی میں انہوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنی حکومتیں ختم کیں اس کا انہیں بہت نقصان اٹھانا پڑا، پی ٹی آئی قیادت پر تمام مقدمات اسی دور میں بنے ، مولانا فضل الرحمان کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک طرف وہ پی ٹی آئی کیساتھ معاملات بہتر کر رہے ہیں اور دوسری طرف خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو بھی جعلی قرار دیتے ہیں حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ مولانا کی جماعت کو شکست پی ٹی آئی نے دی ، پی ٹی آئی سے اتحاد کے معاملے پر جے یو آئی کے اندر بھی اختلافات ہیں اور جے یو آئی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی قیادت پی ٹی آئی سے کسی حد تک ورکنگ ریلیشن کے حق میں تو ہے لیکن انتخابی اتحاد کے حق میں نہیں ہے اس لئے مولانا فضل الرحمان کو بھی بہت احتیاط سے آگے بڑھنا ہوگا۔
مہنگی بجلی سے عوام کنگال،قومی سلامتی کوخطرہ








