بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیٹ میٹرنگ یونٹس کیلئے 3 سے گھٹاکر ایک ماہ کرنے کی تجویز

حکومت نے نیٹ میٹرنگ کی بنیاد پر توانائی کی اوسط لاگت کے لیے بائی بیک ریٹس پانچ سال کے بجائے تین سال کے لیے متعین کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

بڑے سولر سسٹم نصب کرنے والوں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ بیٹری بینک بڑھانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ جرمنی کے مرکزی ترقیاتی ادارے دی ڈوئچ گیزلشیفٹ فیور انٹرنیشنل سُویمناربائٹ کے زیر اہتمام نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کی تقسیم سے متعلق چیلنجز اور حل کے موضوع پر منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے نیٹر میٹرنگ سے متعلق خدشات اور اُنہیں دور کرنے کے طریقوں کا اظہار کیا۔

اس سیمنار کے ذریعے دی پاور ڈویژن، نیپرا، سی پی پی اے، پاور ڈسٹریبیوٹنگ یوٹیلیٹیز (ڈسکوز)، دی پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی، پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور سولر ای پی سی کمپنیز کو ایک دوسرے کے نزدیک آنے اورتبادلہ خیالات کا موقع ملا۔ ماہرین نے ایسے حل تجویز کیے جن میں کسی بھی فریق کے لیے نقصان کا پہلو نہیں۔

طے شدہ طریقِ کار کے تحت ہر تین ماہ کے اختام پر اضافی یونٹس کی مالیاتی قدر معلوم کرکے زیادہ سے زیادہ یونٹس کی کھپت ایڈجسٹ کردیا جاتا ہے۔ سیمنار کے شرکا نے کہا کہ اضافی یونٹس کو آگے لے جانے کے طریقِ کار باعث نیٹ میٹرنگ والے صارفین ضرورت سے زیادہ سولر انسٹالیشن لانا چاہتے ہیں تاکہ وہ تین ماہ گرڈ کی بجلی کی مد میں ادائیگی سے بچ سکیں۔

ڈسکوز کے علاوہ چند ماہرین نے بھی تجویز کیا کہ اس سہولت کو سہہ ماہی کے بجائے ماہانہ کردیا جائے کہ اس صورت میں سیلف کنزمپشن کی حوصلہ افزائی ہوگی اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم بہتر بنانے کی تحریک بھی ملے گی۔

ڈسکوز کے نمائندوں نے نیٹ میٹرنگ کی سرگرمیوں کے لیے ڈسکوز کا سیل بنانے کی تجویز بھی پیش کی۔ یہ سیل چھتوں پر سولر سسٹم، ہوسٹنگ کیپیسٹی اور تکنیکی معاملات دیکھے گا۔ یہ سیل زیادہ اور کم ارتکاز والے علاقوں میں نیٹ میٹرنگ کنکشنز کے حوالے سے سفارشات بھی پیش کرے گا۔

اپریل 2024 تک 2 ہزار میگا واٹ کے نیٹ میٹرنگ والے سیٹ اپ لگائے جاچکے تھے اور ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد نیٹ میٹرنگ سسٹم کے تحت پیدا ہونے والی سالانہ توانائی کے لیے ڈسٹری بیوشن کے اشوز پر بھی سیمینار میں بحث کی گئی۔ اس میں ہائی کنزیومر وولٹیج، ڈسٹری بیوشن ٹرانفسارمر پاور ریٹنگز، پاور کوالٹی اور غیر قانونی طور پر سولر سسٹمز کی تنصیب کی صورت میں اضافی بجلی کی پیداوار سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں شامل تھیں۔

سمیمنار میں صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ والے سسٹمز کی تنصیب کے لیے دی جانے والی پاور لمٹ میں کمی کی بھی تجویز پیش کی گئی۔ موجودہ قواعد کے تحت تھری فیز صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی سہولت میسر ہے جس میں صارف کے لیے منظور شدہ لوڈ سے ڈیڑھ گنا تک کی کنکشن لمٹ ہے۔ ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر لمٹ 800 ہے۔

ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے حکام نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ والے سولر سسٹم زیادہ لگنے کے باعث ٹرانسفارمرز میں بجلی واپس پہنچ رہی ہے۔ گرمیوں میں تو یہ صورتِ حال پیچیدہ نہیں ہوتی مگر سردیوں میں جب بجلی ک استعمال کم رہ جاتا ہے تب سسٹم میں زیادہ بجلی آنے سے تکنیکی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ مارچ، اپریل، اکتوبر اور نومبر میں ایسا ہوتا ہے۔ شدید سردی میں ملک کے بہت سے حصوں میں شدید دھند اور مجموعی طور پر بادلوں کے چھائے رہنے سے سولر پاور کی پیداوار گھٹ جاتی ہے۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ ٹرانسفارمرز میں واپس آنے والی بجلی کے حوالے سے خبردار کرنے کا نظام لگایا جانا چاہیے۔

ماہرین نے تجویز پیش کی کہ ڈسکوز بھی نیٹ میٹرنگ والی تنصیبات پر اسمارٹ میٹر لگائیں تاکہ غیر قانونی طور پر اضافی تنصیبات کا مسئلہ موثر طور پر حل کیا جاسکے۔ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب سے بجلی کے تقسیم کار ادارے اپنے نیٹ ورک پر اچھی طرح نظر رکھ سکیں گے۔

سیمینار کا بنیادی مقصد ملک بھر میں اندھا دھند لگائے جانے والے سولر سسٹمز اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے پیدا ہونے والی تمام تکنیکی پیچیدگیوں کا احاطہ کرنا اور اس حوالے سے معقول سفارشات مرتب کرنا تھا تاکہ بجلی کے پیداکار و تقسیم کار اداروں اور عام صارفین کے لیے ایسی صورتِ حال پیدا کرنے میں مدد ملے جس میں فائدہ سب کا ہو اور نقصان کسی کا بھی نہ ہو۔