کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ 32اضلاع کے4 ہزار 456 شہری اور دیہی وارڈز میں پولنگ ہوئی، انتخابات کے لیے5 ہزار 226 پولنگ اسٹیشن، 12ہزار 219 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 32اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لیے14 ہزار 611 امیدوار میدان میں ہیں، بلدیاتی انتخابات میں ایک ہزار 584 وارڈز میں امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں، بلوچستان میں ووٹرزکی تعداد 35 لاکھ52 ہزار 398 ہے۔
بلوچستان بھر میں انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جب کہ 7 اضلاع انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب تربت کےعلاقےڈھنگ میں گرلز مڈل اسکول میں پٹاخے سے معمولی سا دھماکا ہوا تاہم دھماکےمیں کوئی نقصان نہیں ہوا اور پولنگ کا عمل جاری رہا۔ڈی آئی جی مکران ڈویژن غلام اظفر مہیسر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تربت میں دستی بم حملہ نہیں ہوا، پٹاخہ نما چیز پھینکی گئی، کوئی مالی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پٹاخا لگنے سے کرسی بھی محفوظ رہی، پٹاخا اس لیے پھینکا گیا تاکہ خوف و ہراس پھیلے۔
اس کے علاوہ چمن میں میونسپل کارپوریشن وارڈ نمبر 1 مردانہ پولنگ باغیچہ اسکول میں ووٹ کاسٹنگ پر جھگڑا ہوگیا، پولنگ اسٹیشن کے اندر امیدوار اور پولنگ ایجنٹ کےدرمیان ہاتھاپائی ہوئی جس پر پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے رک گیاتھا۔
بلوچستان، 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری








