نیویارک(نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے پاکستان کی سلامتی کو بدستورخطرہ لاحق ہے جب کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ جاری امن مذاکرات کی کامیابی امکانات کم ہیں۔1988طالبان سینگشنز کمیٹی کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہاکہ ٹی ٹی پی کے افغان طالبان کے ساتھ رابطوں کا احاطہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ کس طرح اس گروپ نے گزشتہ سال غنی حکومت خاتمے سے فائدہ اٹھایا اور افغانستان سے سرگرم دوسرے شدت پسند گروپوں کے ساتھ مراسم قائم کئے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاک افغان سرحد کے ساتھ مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے چار ہزارشدت پسند موجود ہیں اور یہ وہاں موجود غیرملکی شدت پسندوں کا سب سے بڑاگروپ ہے۔افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد کمیٹی کی یہ پہلی رپورٹ ہے جس میں بنیادی طور پر طالبان کی داخلی سیاست،ان کے مالی وسائل، القاعدہ،داعش اور دوسری شدت پسند تنظیموں کے ساتھ ان کے مراسم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں پر عملدرآمد کا جائزہ پیش کیا گیا۔یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان حال ہی میں مذاکرات کا تیسرا دورشروع ہوا ہے، گزشتہ سال کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی جو ایک ماہ تک چلی اور اس کے بعد ٹی ٹی پی نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے اسے توڑ دیاکہ اسلام آباد وعدے پورے نہیں کررہا۔رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کی ثالثی میں امن عمل رواں ماہ کے اوائل میں دوبارہ بحال ہوا ہے جس کے بعد دونوں جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات کئے گئے۔کالعدم ٹی ٹی پی نے پہلے عید پر جنگ بندی کا اعلان کیا اور پھرپاکستان کی طرف سے اس کے متعددکمانڈروں کی رہائی کے بعد جنگ بندی میں توسیع کردی گئی۔بات چیت کے تیسرا دور میں جس میں پاکستانی وفد کی قیادت ایک اعلیٰ فوجی افسر نے کی فریقین نے اپنے اپنے مطالبات ایک دوسرے کے سامنے رکھے۔ٹی ٹی پی نے قبائلی علاقوں سے سکیورٹی فورسز کی واپسی، فاٹاکے خیبرپختونخوا سے انضمام کے خاتمے،اس کے جنگجوؤں کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور ان کی رہائی اور مالاکنڈڈویژن میں شریعت پر مبنی نظام عدل متعارف کرانے کے مطالبات پیش کئے۔اگرچہ سکیورٹی فورسزکاکہنا ہے کہ یہ مطالبات ناقابل قبول ہیں ،ان مطالبات کی منظوری کا مطلب ریاست کاجھکنا ہوگا تاہم حکومتی وفد ابھی تک بات چیت کے تیسرے مرحلے میں شامل ہے،مذاکرت کے حالیہ دورمیں حکومت کی طرف سے اولین ترجیح جنگ بندی میں توسیع یقینی بنانا ہےجس کی مدت تیس مئی کو ختم ہورہی ہے،تاہم پاکستان نے مذاکرات کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ٹی ٹی پی نے پاکستانی ریاست کے خلاف طویل مدتی مہم پر توجہ مرکوز کررکھی ہے جس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کی کامیابی کا امکان محدود ہے۔رپورٹ کے مطابق دوسرے شدت پسند کے مقابلے میں ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی حکومت قائم ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہےاور اس نے پاکستان میں حملوں اور کارروائیوں کے لئے اس موقع کا استعمال کیا۔
ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کی کامیابی کاامکان بہت کم ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دعویٰ







