اسلام آباد(طارق محمودسمیر) وفاقی حکومت نے لاپتہ ہونے والے افراد کے ہر خاندان کے لیے 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے،جب کہ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ یہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات دور کرنے اور ان کے غم میں شریک ہونے کی ایک کوشش ہے، انہوں نے یہ بھی کہاکہ گمشدہ افراد کے پیچھے متعدد اور پیچیدہ وجوہات ہیں ،پاکستان میں ہر شہری کی زندگی کا تقدس اور تحفظ اہم ہے لاپتہ افراد نے گوادر میں کئی روز سے دھرنا دے رکھا تھا تاہم گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ڈی سی گوادر کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان ہوا تھا اور حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی کہ تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا جائے گا،وزیرقانون نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ سابق پی ڈی ایم کی حکومت میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا کنوینر انہیں بنایا گیا تھا، کمیٹی نے سٹیک ہولڈرز اور ریاستی ایجنسیوں کا مؤقف سنا اور کوئٹہ میں متاثرہ خاندانوں سے بھی ملے،پی ڈی ایم کی حکومت ختم ہونے کے بعد نگراں حکومت کے دور میں دوبارہ کمیٹی بنی جس نے عسکری اور ریاستی اداروں سے بھی سوال جواب کیے اور ایک رپورٹ مرتب کی۔ یہ رپورٹ کابینہ ڈویعن میں بھجوائی گئی اور کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، یقیناًلاپتہ افرا د کا معاملہ بہت پراناہے اور اس معاملے پر پاکستان مخالف قوتیں اور عناصر پروپیگنڈا بھی کرتے رہتے ہیں چنانچہ ضرورت امر کی ہے کہ اس معاملے کے مستقل حل کے لئے اقدامات کئے جائیں ، ادھر اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ملک میں سرکاری سطح پر یوم سوگ منایا،نمازجمعہ کے بعداسماعیل ہنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ اداکی گئی جب کہ قومی اسمبلی میںاسماعیل ہنیہ کی شہادت کے واقعہ کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظورکرکے دنیاکو یہ پیغام دیاگیا کہ پاکستان کی قیادت اورعوام کے شانہ بشانہ ہیں،قرارداد میں غزہ میں فی الفور سیز فائر کا مطالبہ بھی کیا گیا ، متفقہ قراردادکی منظوری کے لئے حز ب اختلاف کاکردارقابل تحسین ہے ،سیاسی جماعتوں نے ثابت کیاکہ فلسطینی کاز پر وہ متحد اور فلسطینیوں کے شانہ بشانہ ہیں،حزب اختلاف کے اس ذمہ دارانہ طرز عمل کووزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سراہا اور اپنے خطاب میں انہوں نے خصوصی طور پر بلاتفریق تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے بجاطور پراس امرکی بھی نشاندہی کی کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت امن کی کوششوں کو بڑا دھچکا ہے، پاکستان اسماعیل ہانیہ کیاہلخانہ اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین پر آنکھیں بند کرنے سے کام نہیں چلے گا، فلسطین آج ایک مقتل گاہ بن چکا ہے، وہاں کھلم کھلا عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، ہزاروں شہیدوں کا لہو انصاف کو پکار رہا ہے،انہوں نے فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم پر عالمی برادری اور اداروں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا الیکشن ایکٹ2017 کا ترمیمی بل منظوری کے لئے جمعہ کوقومی اسمبلی میں پیش نہیں کیاجاسکااور اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کا ایک نکاتی ایجنڈا ہی زیربحث رہاچنانچہ ترمیم بل کو موخرکردیاگیا اور اب یہ بل آئندہ ہفتے اسمبلی میں پیش کئے جانے کاامکان ہے ،واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی پارلیمانی امور کمیٹی پہلے ہی الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی منظور ی دے چکی ہے ، ،بل کے مطابق آزاد رکن اسمبلی کی جانب سے کسی سیاسی جماعت سے اپنی وابستگی کا اقرار نامہ تبدیل نہیں کیا جا سکتاآزاد رکن اسمبلی کی جانب سے کسی سیاسی جماعت سے اپنی وابستگی کا اقرار نامہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا،بل کے مطابق جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کے ارکان کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہ دی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، پہلی ترمیم کے مطابق آزاد رکن اسمبلی 3 روز کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کا پابند ہوگا، اس کے بعد کسی اور سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکے گا، کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کی رضا مندی ناقابل تنسیخ ہوگی، اس پر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سمیت کسی عدالت کا فیصلہ اثر انداز نہیں ہو سکے گادوسری ترمیم کے مطابق جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو جمع نہ کروائی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں۔









