اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )ملتان سے کراچی جانے والی زکریا ایکسپریس میں ٹرین کے عملے کی جانب سے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے میڈیکل میں زیادتی بھی ثابت ہوگئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے سسرال مظفر گڑھ سے کراچی جا رہی تھی اور ان کو سفر کے دوران ہی ٹرین عملے کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ فرار ہوگئے۔نجی شعبے کے زیر انتظام چلنے والی زکریا ایکسپریس ٹرین میں کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کراچی کی رہائشی خاتون کو دوران سفر ٹکٹ چیکر انچارج اور ایک شخص نے زیادتی کا نشانہ بنایا جس کا مقدمہ کراچی کے سٹی اسٹیشن میں خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی رہائشی خاتون کے شوہر نے ڈیڑھ ماہ قبل اس کو طلاق دے دی تھی، اس کا سسرال مظفر گڑھ میں ہے اور وہ اپنے بچوں سے ملنے 26 مئی کو مظفر گڑھ پہنچی جب کہ 27 مئی کو واپس زکریا ایکسپریس کے ذریعے کراچی کے لیے روانہ ہوئی۔خاتون کو ملتان اسٹیشن پر ٹکٹ نہیں ملا اور انہوں نے ٹرین کی اکانومی کلاس کا ٹکٹ بنوا کر بغیر سیٹ سفر کیا ، ٹرین جب روہڑی سے روانہ ہوئی تو نجی شعبے کے ٹکٹ چیکر زاہد نے خاتون کو کہا کہ وہ اس کو اے سے بوگی کی برتھ لے کر دے سکتا ہے اور اس نے انچارج عاقب سے ملوایا اور اس کو اے سی بوگی کے ایک کمپارٹمنٹ میں لے گیا۔ٹکٹ چیکر کچھ دیر بعد کمپارٹمنٹ میں آیا اور خاتون سے دست درازی کی خاتون نے وہاں سے اکانومی بوگی میں جانے کی کوشش کی جس پر اسے جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر اسے زیادتی کانشانہ بنا دیا۔بعد ازاں ٹکٹ چیکر انچارج عاقب نے بھی خاتون سے زیادتی کی اور پھر ایک تیسرا شخص بھی آیا جس نے ایک بار پھر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا جناح اسپتال میں میڈیکل کروایا گیا جس کی ابتدائی رپورٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوچکی ہے ، خاتون کے بیان کے بعد تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔دوسری جانب ریلوے انتظامیہ نے خاتون سے زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں ملوث ٹرین کا عملہ فرار ہوگیا ہے۔ایس پی ریلوے مہر کوثر عباس کے مطابق خاتون نے کراچی اسٹیشن پر پہنچ کر کسی کو واقعے سے متعلق اطلاع نہیں دی تھی، خاتون پریشانی کے عالم میں اسٹیشن پر بیٹھی تھی جس پر ریلوے پولیس نے خاتون کی مدد کی، خاتون اپنی حقیقی بہن کے ساتھ گھر چلی گئی تھی، اطلاع ملنے پر ریلوے پولیس نے متاثرہ خاتون کو گھر سے بلوایا اور اس کا بیان ریکارڈ کیا۔ایس ایس پی ریلوے نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کے بیان کی روشنی میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے، ریلوے پولیس کی چھاپہ مار ٹیمیں ملتان روانہ ہو گئی ہیں، اور ملتان پولیس کو بھی اپنا کام کر رہی ہے جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔زکریا ایکسپریس میں خاتون سے زیادتی کے واقعے میں نامزد 2 ملزمان اور ایک مشکوک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ڈی ایس ریلوے نے مقدمے میں 2 نامزد ملزمان اور ایک مشکوک شخص کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار 2 ملزمان کا تعلق ملتان اور ایک کا تعلق شورکوٹ سے ہے۔ڈی ایس ریلوے حماد رضا نے کہا کہ گرفتار ملزمان کو کراچی ریلوے پولیس کے حوالےکیا جائے گا، واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہے، واقعے میں ٹرین کے 4 سکیورٹی گارڈ بھی پولیس تحویل میں ہیں۔ریلوے پولیس نے زکریا ایکسپریس میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے پر 4 سکیورٹی گارڈز کو حراست میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں سکیورٹی گارڈز نجی کمپنی کے ملازم ہیں۔وزیر ریلوے اور چیئرمین ریلوے نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس کو نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت جاری کی ہیں ۔ انہوں نے پرائیوٹ ٹرینوں میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے ۔
زکریا ایکسپریس میں ٹرین عملے کی مسافر خاتون سے اجتماعی زیادتی ثابت، 2 ملزمان گرفتار








