بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ٹی آئی کا عمل ریاست اور حکومت سے بغاوت تھی، رانا ثناء اللہ

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان نے اپنے لوگوں کو مسلح ہو کر اسلام آنے کی تلقین کی، یہ جرائم پیشہ گینگ ہے، ان کا عمل ریاست اور حکومت سے بغاوت تھی، یہ لوگ ریڈ زون کو بریک کرنا چاہتے تھے۔
نجی ٹی وی کی دیئے گئے انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان اپنے لوگوں کو مسلح ہوکر آنے کی تلقین کرتے رہے، عمران خان اور ان کے دیگر لوگوں کی ٹیلیفون کالز ہمارے پاس موجود ہیں، اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی نے ڈھائی ہزار کے قریب لوگ پہلے ہی اسلام آباد میں مامور کردیئے تھے، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ساتھ آنیوالے لوگ بھی مسلح تھے، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ساتھ آنے والوں نے پولیس پر اسلحہ تانا، یہ لوگ ریاست پر چڑھائی کرنے جارہے تھے، یہ جرائم پیشہ گینگ ہے، ان کا عمل ریاست اور حکومت سے بغاوت تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ لوگ ریڈ زون کو بریک کرنا چاہتے تھے، اگر ریڈ زون بریک ہوتا تو مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس اور سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر چڑھ دوڑتے، امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق پولیس نے مقدمے درج کرائے ہیں، غداری اور بغاوت سے متعلق ہمارے پاس شواہد موجود ہیں، کابینہ سے استدعا کی ہے کہ وہ مقدمہ درج کرانے کیلئے اجازت دے تاکہ اسی الزام میں ان کیخلاف مقدمہ چلے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کابینہ نے میری بات سن کر ایک سب کمیٹی بنائی جو تمام شواہد دیکھے گی، کمیٹی کابینہ میں اپنی سفارشات پیش کرے گی، انہیں اسلام آباد میں داخلے کی ہرگز اجازت نہ ملتی، انہوں نے سپریم کورٹ کو دھوکہ دے کر اجازت لی، سپریم کورٹ نے ہمیں کہا کہ 3 گھنٹے میں انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے، ہم انتظامات کررہے تھے کہ انہوں نے اعلان کردیا کہ میں تو ڈی چوک جاؤں گا۔
اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بات چیت کیلئے سہولت کاری کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ فواد چوہدری نے ایاز صادق سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ اس معاملے کا بات چیت سے حل نکالیں جس پر ان سے ملاقات کی گئی، سپیکر ہاؤس میں فواد چوہدری، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی آئے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں سینئر قیادت کی بھی عمران خان کے سامنے کوئی اوقات نہیں، کوئی عمران خان کو مشورہ بھی نہیں دے سکتا، ان کا جو دل چاہتا ہے وہ کرتے ہیں۔